فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 32
۳۲ ز لحاظ الوہیت۔مگر میں کہتا ہوں جب ابتدا ندارحم میں رونق افروز ہوئے جسوقت میں جسمانی کی پہلی آن تھی۔اُس وقت رحم آپکو حیط تھا۔یا آپ رحم کو پھر تم کو اور اقتاروں کے مانے والوں پر کیا اعتراض ہو۔اسکی زیادہ تفصیل بحث الوہیت مسیج میں ہے۔بلکہ ہر ایک انسان ایسا دعوی کر سکتا ہو کہ میں بھی الہ مجسم ہوں۔جب کسی نے کہا کہ کوئی قدرت دکھاؤ۔اور نہ دکھا سکے۔تو کہدیا یہ نقص ملمحاظ انسانیت ہے۔نہ بلحاظ الوہیت۔کفاره کفارے کے مسئلے پر خود کرنے سے صاف صاف عیاں ہو کہ عیسائی اس قدوس کو منتصف بصفات کا مرہ اور منزہ فائل سے اور قادر مطلق نہیں سمجھتے۔حقیقت کفارہ یہ کہتے ہیں۔تمام آدمی گنہگار ہیں۔اول تو آدم کے گناہ سے اُن کا سرچشمہ پیدایش مکدر ہوا۔پھر خود بھی اس کی اولا دستان کا ارتکاب کرتی رہی۔خدا کے عدل نے چاہا ان سب کو گناہ کی سزا دے۔اللہ اسکے رحم نے دستگیری کی۔ان اللہ جو اللہ مجسم تھا اور حقیقت میں نور خدا تھا۔تمام ایمان والوں کے کنا اپنے سر پر لیے۔اور ملعون ہو گیا۔اور ایماندار نجات پاگئے۔غور کرو۔اقل آدم کے گناہ سے اولاد کو گنہ گار کرنا بظا ہر خدا کی قدوسیت اور عدل اور رحم کے خلاف ہو۔اور یہی صفات کا ملہ ہیں۔(یہ کار خصم کے مسلمات پر ہے) دوم معلوم ہوتا ہے۔حضرت کو مغفرت کی کوئی تدبیر نہ سوجھی۔اور آپکی فی حمد و طاقت نانا بھی کر دکھایا۔دل کو قائم رکھکر تم کوپورا کرتے۔عیسائیوں کے خدا نے اپنی ذات پاکے طعون کیا اور قدوسیت سے دُور پھینکا۔جیسے گناہ سے پاک تھے۔ویسے ہی عیسائیوں کے گناہوں سے آلودہ ہوئے۔اور پھر بھی رحم پورا نہ ہوا۔رحم کی صفت کا ظہور کامل طورپر نہ ہوا کیونکہ خدا کا ملعون ہونا بمصلوب ہونا حسب اعتقاد نصار کی اس لئے تھا کہ گناہگار نجات بھی پاوے اور عدل بھی قائیم رہے۔