فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 369
٣٦٩ پیدا ہوتی ہے۔علی الصباح بستر غفلت سے اٹھ کر بدنی طہارت کی طرف متوجہ ہونا۔تمام مہذبین بلاد میں ایک عام لازمی عادت ہے۔صاف عیان ہوتا ہے کہ تقاضائے فطرت سے اُس کے زور و اجبار سے یہ دائمی عادات پیدا ہوئے ہیں او طبیعت اعضا و جوارح سے میرا اس خدمت کا لینا پسند کرتی ہے۔نہیں اگر ایسی عبادت میں جس میں روحانی ہوشوں اور اصلی باطنی طہارت کا اظہار مقصود ہو۔ایسی طہارت ظاہری کو لازمی اور لا بدی کر دیا جاوے۔تو کس قدر اُس شوق و ذوق کو تائید ہوگی۔صاف واضح ہے کہ جہاں فانی طہارت اور ظاہری صفائی کا حکم ہوگا۔وہاں باطنی طہارت اور باقی صفائی کی کتنی اور زیادہ تاکید ہوگی۔خو راس میں شک نہیں کہ صفائی ظاہر کی طرف طبعا ہر قوم متوجہ ہے اور اس میں بھی شک نہیں کہ نہایت بد بخت سیاه درون ہیں۔جو صرف جسمانی صفائی اور ظاہری زیب و زینت کی فکر میں لگے رہتے ہیں۔یقینا بہت سے انہیں ظاہری رسوم کی پابندی اور انہیں فانی قیود میں ایسے اُلجھے ہیں کہ قساوت قلبی اور بداخلاقی کے سوا کوئی نتیجہ اُن کے اعمال و افعال پر مترتب نہیں ہوا۔اسکی وجہ صرف یہ ہوئی کہ انہوں نے ظاہر ہی کو مقصود بالذات اور قبلہ ہمت ٹھہرالیا۔یا اُن کے پاس کوئی روحانی شریعت نہ تھی۔جو عجاز سے حقیقت کی طرف اُن کو لیجاتی۔مگر اس سے نفس فعل طہارت قبیح یا مستوجب علامت نہیں ٹھیرتا۔اس تعلی افراط و تفریط کے اور نہی موجبات اور یو ابحث ہیں۔ہمیں اسوقت اور قوموں کے رسوم سے تعرض کی ضرورت نہیں۔اسوقت ہم اسلامی طہارت، (وضو) کو پیش نظر رکھتے ہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ غیر قوموں نے اسلامی اعمال پر ؟ انصاف سے غور نہیں کیا۔انہیں یاد رکھنا چاہیئے کہ مسلمانوں نے ہاں محمد رسول اللہ مسلم کی سنت پر چلنے والوں نے ہر گز ظاہر کی طہارت میں خوض نہیں کیا۔وہ اسی کو منفصور بالذات نہیں سمجھتے۔کیونکہ ایک پیچھے آنے والے جلیل الشان حقیقی فعل نماز کا یہ عمل مقدمہ ہونا ثابت۔