فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 368
PYA کر دیتے ہیں۔پس اب سوچنا چاہیئے کہ جب اس خالق مالک رازق منعم کا تصور انسان کے قلب میں گزریگا۔اور اسکے عطایات اور نعمتوں کی تصدیق سے اس کا دل وجان معمور ہو جائے گا۔تو یہ دلی جوش اور اضطراری ولولہ اس کو ساکن غیر متحرک چھوڑ دے گا۔نہیں نہیں ضرور طوعا و کر یا اعضائے ظاہری سے ٹپک پڑے گا۔جڑ کو صدمہ پہنچے اور شاخوں کو حق تک نہ ہو۔غیر معقول بات ہے۔غیر مہذب اقوام کے مذہبی رسوم کے آزاد دل سے تحقیقات کرو۔تو عجیب و دلکش اصول کا مجموعہ تمہیں ملے گا۔کہ اس اُوپر دیکھنے والی ہستی نے قوائے رُوحانی کی ابتدائی شگفتگی کے زمانے میں جسکو زمانہ حال کے جہد بین زمانہ جہانت و تاریکی بولتے ہیں۔کن کن صورتوں اور رنگوں میں اس فیاض مطلق کی حمد و سپاس کے قلبی زیر دست اثر کوظاہر کیا ہے۔خارجی بد آثاری اور عوارض کو چھوڑ دو۔اصلی بے رنگ و بے لوث فطرت پر غور کرو۔تو تمہیں دنیا کی قوموں میں رنگارنگ حرکات دکھائی دینگے جو با اینهمه رنگا نہ نگی کیسے اُس بے رنگ کا معبود ومسجود ہونا ثابت کر رہے ہیں۔اس بیان سے صر است در مقصود ہے کہ قوم کے نزدیک کوئی نہ کوئی طریق معبود حقیقی کی یاد کا ضرور ہے۔جسکو وہ لوگ اپنی نجات کی دستاویز سمجھتے ہیں اور یہ کہ عقاید باطنی کے حسن و قبح کی تصویر اعضا و جوارح کے آئینے میں دیکھی جا سکتی ہے۔ہر قوم میں جوش قلبی کی تحریک اور اسکی آگ بھڑ کانے کے لئے کئی ایک ظاہری اعمال کا التزام پایا جاتا ہے۔مثلا بدان کو پانی سے طاہر کرنا۔کپڑا صاف رکھنا۔مکان لطیف و نظیف رکھنا۔ظاہری صفائی اور حسب فطرت اصلاح بدن سے بیشک اخلاق پر قومی اثر پڑتا ہے۔نجاست گندگی۔ناپاکی - چرک نچلا پن سے کبھی وہ علو ہمت بلند حوصلگی۔پاکیزگی اخلاق پیدا نہیں ہو سکتی جو واجبی صفائی اور طہارت کا لازمی نتیجہ ہو۔بدیہی بات ہے کہ ہاتھ منہ دھونے وغیرہ افعال جوارح سے حتما ایک قسم کی بشاشت اور تازگی عقلی قومی میں ہارت ظاہری۔وضو -