فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 370
کرتا ہے کہ یہ عمل تو صرف نشان یا دلیل دوس سے امر کی ہے۔وضو میں مسلمانوں کو جو دعا پڑھنے کی نصیحت کی گئی ہے۔یقیناً معترض کو راہ حق پر آنے کوجو کی ہدایت کرتی ہے سنو اور غور کرو۔وَهُوَ هذا۔اللهمَّ اجْعَلْنِي مِن التوابين واجعَلْنِي مِنَ الْمُطَهَّرِينَ سُبْحَانَكَ اللهُم التَّوَّابِينَ وبحمدك اشهد ان لا اله إلا أنتَ اسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إلَيكَ۔غسل جنابت میں بھی یہی دعا مانگی جاتی ہے۔اور بعد اس دُعا کے یہ فقرہ کہا جاتا ہے۔اب نسل پورا ہوا یہ یعنی ظاہر باطن سے ملکر پورا ہوا۔یا درکھنا چاہیئے کہ عذر اور ضرورت کے وقت یہ طہارت ساقط ہو جاتی ہے۔یہ کافی دلیل اس امر کی ہے کہ عمل بھی صرف مقصود بالعرض ہے۔مثلاً پانی نہ ملنے کی صورت میں غسل اور ونو دونوں حالتوں میں اس آسان شریعت نے تم کولینے کا حکم دیا ہو جیسے مقصود اتنا ہے کہ اعضائے ظاہری کا بنرس بجا کہ قوائے باطنی کے غافل قافلے کو بیدار اور بر سر کار کیا جائے۔یہ ناپاکی اور پاکی د طہارت کا لفظ اور اس کا مفہوم اسلام میں ایسا نہیں بنتا گیا۔جیسا وسوسہ ناک طبائع اور وہی مزاجوں کے درمیان معمول ہوا ہے کہ انسان کی ذات میں کوئی ایسی نجاست نفوذ کر گئی ہے جس نے اس کو گھنونا اور لوگوں کے پرہیز و اجتناب کا محل بنا دیا ہے۔اور میں کا ازالہ سوائے اس نظاہر ہی طہارت کے ہو نہیں سکتا۔میں سچ سچ تمہیں بتاتا ہوں کہ اسلام ان تو ہمات سے بالکل پاک ہے۔احبار اباب اور ۱۸ باب ۱۵ میں ہے کہ " جریان والا کپڑے دھو ہے اور غسل کرے شمام تک نا پاک ہے۔اور جسپر وہ سوار ہو اور ہو کوئی اس کی سواری کو چھونے وہ بھی ناپاک ہ اے اللہ مجھے اپنی طرف خالص رہوے کرنے والوں سے بنا اور مجھے پاک رہنے والوں کی جماعت ہیں شامل کر۔اے اللہ تو قدوس سے تیری محمد ہی میں دل سے شہادت دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تجھ سے مغفرت چاہتا ہوں اور تیری طرف رجو ع لاتا ہوں۔