فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 364 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 364

۳۶۴ اور مشابہت تامہ رکھتے ہیں۔(1) مجسم را حضرت مسیح کا خدائے مجسم ہونا۔جیسا عیسائی لوگ کہتے ہیں۔بعینہ ہندوؤں کے اس عقیدے کے مطابق ہے جو وہ کہتے ہیں کہ بھگوان نے اوتار دہا راہ لینے خدائے مجسم ہوا۔اور ٹھیک بسیح دسویں اوتار کی طرح ہیں۔(۲) مسیح کا دنیا میں آنا۔عیسائی کہتے ہیں کہ اُنکے بچانے اور گناہ دور کرنے کیلئے ہوا۔اور یہ عقیدہ بعینہ ایسا ہے۔جیسے ہندو کہتے ہیں " کہ جب دُنیا میں پاپ بہت ہو جاتے ہیں۔بھگوان باغراض مختلف جسمہ کو قبول کرتا مجسم ہوتا اور اوتار دھارتا ہے یہ (۳) تثلیث کا مسئلہ ہندوؤں کے تردید کہنے کے مساوی ہے۔عیسائی کہتے ہیں۔خدا ایک ہے اور تین بھی ہیں۔بت پرست ہندو بھی ایسا ہی کہتے ہیں۔کہ بھگوان ایک سے اور تین بھی ہیں۔برھما - بشن - مهیش - (۴) عیسائیوں کا یہ عقیدہ کہ خدا باپ بیٹا اور باپ اور بیٹے سے روح القدس۔بعینہ منڈوں کے اس قول کے مطابق ہو کہ نرگن سے سرگن ہوا۔یا نرگن سر ستوگن۔تم گن۔رچوگن۔(۵) عیسائیوں میں عشائے ربانی کا مسئلہ جسکی بابت کیتھولک اعتقاد ہو کہ اسوقت روٹی اور شراب بعینہ حقیقت نہ مجازاً مسیح کا گوشت اور لہو ہو جاتا ہے۔اور پروٹسٹنٹ اُسے ستانہ اور مجاز کہتے ہیں۔ٹھیک بت پرستوں کے اس اعتقاد کے برابر ہے۔کہ بشند پتھر بن گیا۔اور سا لگرام نام کہلا کر گند کا نڈے میں جاپڑا۔اور تردید میٹر اور چیپل اور ڈھاگ بن گئی۔ل فی الواقع پولوس صاحب نے دین سیمی کی تائید میں بڑے بڑے کارنمایاں کئے۔اُسنے اپنے مرشد کے سیدھے سادھے احکام و نصائح میں فلسفہ فیثا غورث کے نہایت دقیق اصول داخل کردئے۔اور یہ وہ فلسفہ تھا جس میں معقول عشرہ اور شلیث کا مسئلہ مشرقی ملکوں سے اخذ کر کے داخل کیا تھا لائف آن محمد از سید امیر علی ۱۲