فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 365
۳۶۵ (4) حضرت مسیح کا یہودیوں سے انتقام لینے کے لئے رومیوں میں آنا۔جیسا کہ مفسران انجیل اور عیسائیوں کا اعتقاد ہے۔ویدانتیوں کے اس خیال کے مساوی ہے جو کہتے ہیں۔کہ پر میشر نے کہا میں نے چاہا۔کہ ایک سے بہت ہو جاؤں اور بعینہ تناسخ کے مسئلے کے ہمشکل ہے۔(4) کفارے کا مسئلہ ہندوؤں کی تو بکی نہیں تو اور کیا ہے۔(۸) یوحنا اصطباغی کا ایلیا میں ہونا، بالکل ہندوؤں کے مسئلے اواگون کے ہم معنی یا اُسی کا نتیجہ ہے۔متی ۱۷ باب ۱۲ - (4) یوجنا کا دریائے یہ دن میں بپتسما دینا۔گنگا جی کی بڑکی نہیں تو اور کیا ہے۔(۱۰) پولوس صاحب فرماتے ہیں کہ پالکوں کے لئے سب کچھ پاک وصاف ہے۔پادری صاحبان با یه سرب بھنگیوں کا اعتقاد اورتعلیم نہیں تو اور کیا ہے۔اب عہد عتیق کا بھی کچھ حال سُن لیجئے۔(۱۱) نرسنگ بجانا اور اس کو دائمی ابدی رسم قرار دینا بعینہ ہندوؤں کی آرتی ہے۔(۱۳) کا مہنوں کا ایک ہی قوم میں ہونا اور لاویوں کا مقرر کرنا بعینہ ہندوؤں کی اس رہتے مطابق جس میں یہ ہمن اور پروہت خاص قوم میں کے ہوتے ضرور ہیں۔مذہبی چندوں میں لاویوں کی تخصیص بر ہمنوں کے خاص مصرف خیرات ہونے کا نشان بتاتی ہے۔(۱۳) زیور ۲۶-۶- م میں جس عبادت کا ذکر ہے۔وہ ہندوؤں کی سی پر کرما نہیں تو اور کیا ہے۔(۱۴) سوختنی قربانی جس کا ذکر تمام توریت بھر میں ہے۔مثلاً خروج باب ۱۹ - ۱۸- یہ لے عیسائیوں کے اس خیال کی بن متی باب ۱۸۱۲ کی تائید اور تصدیق کے لئے انکو اس تاویل کے گھڑنے کی ضرورت پڑی۔اس مطلب کے لئے دیکھو تفسیر متی خزانہ الاسراء۔اور دیکھو تفسیر منتی باب ۱۰-۱۳ اور غور سے پڑھو ۱۳