فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 363 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 363

الالم مصلح تھے۔بنی نوع انسان کے خیر خواہ تھے۔کیا یہ ہوسکتا تھا اور روا تھا۔کہ وہ اپنی اڑ جائی اینٹ کی بدا مسجد بناتے۔اور کچھ نئی باتیں مافوق الفطرة اپنی امت کو گھر سناتے۔شتو سنو۔اُس افراط و تفریط کو جو صفات و عبادات ایزدی کے لیے تھی۔اُس التباس تخلیط کو جو روحانی مسائل میں بدعتیوں ہوا پرستوں نے وضع کردی تھی، دُور کرنے آئے، اُس کے مٹانے کو تشریف لائے۔اُس شہر عالم سوز کو تو مٹایا۔اُن مذاہب سے استیصالی کیا۔اور اخلاقی تعلیم کو درجۂ تکمیل وحسن تک پہنچایا۔گویا قبح کو رد کیا۔اور حسن کو بحال رکھا۔اور اسی لیے بڑا وسیع التعلیم سچا نبی خاتم المرسلین کے خطاب کا ستخت ہوا۔صلوات الله عليه و سلامه۔اس مقدس نبی کو کچھ ضرور نہ تھا۔کہ اپنی امت کو بعید از قیاس مسائل ہاں معما و چیستاں سکھاتا۔اور تثلیث جیسے نغز کی تعلیم دیگر عقل کی رسائی کا ہاتھ کو تاہ کر دیتا۔اور اُس کے پر پرواز کاٹ ڈالتا۔اپنے پیروؤں کو بیباک ، بے ادب گستاخ سیاہ دروں کرنا اُسے منظور نہ تھا۔جو کفارے کا آتشین جام اُنھیں پلاتا۔بتکرار مضمون ہم پھر بتائے دیتے ہیں کہ اس رسول نے صرف اتنا ہی کام کیا۔اور بڑا کام کیا کہ یہودیوں اور عیسائیوں کی اچھی باتوں کی تصدیق کر دی اور بری باتوں کی تکذیب اللہ اکبر یہی ایک بات ہے۔اُس رسول کا ہر ملت کی صداقت کو تسلیم کر لیا۔اور اپنی امت کو ہر ایک کی سچی بات مان لینے کی نصیحت کرنا۔جسے ہم نے مانا۔تصدیق کیا۔سمجھا۔اور خوب سمجھا کہ وہ رسول برحق ہے۔سچا مصلح العالم ہے۔اور یہی بارہ سے جب سے منکر کوتاہ فہمی یقت فطرت سے ناواقف۔دُور دُور کے گمانوں اور وسوسوں میں ہر کا پھرتا ہے۔است ہم یہ بات ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ عیسائیوں کی بڑی تعلیم اور اُنکے عقاید جوانی سب تعلیمات کے گل سرسبد ہیں۔کیسے ہندوؤں کی کتابوں سے اقتباس کیئے گئے ہیں۔یا اگر وسعت حوصلہ کو کام میں لائیں۔تو اتنا کہ سکتے ہیں کہ ہندوؤں کے عقاید سو مطابقت تھی