فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 362
" اس رحمن رحیم نے ایک فانی چیز یعنی جسم کی خاطر اسقدر اشیائے عجیبہ ابتداء ہی سے پیدا کر دیں۔تو کیا روح انسانی کو جو باقی غیر فانی اور مقصود غائی آفرینش کی ہے۔نظر انداز کر دیا ہوگا۔نہیں نہیں کون شخص ایک لمحہ بھر کے لئے ایسا خیال کر سکتا ہے۔اور اس قدوس کی ذات کامل الصفات پر ایسا عیب لگانا گوارا کر سکتا ہو۔بیشک بیشک وہ اسی طرح پر ابتدا ہی سے رُوح کی تربیت و تہذیب کا سامان بھی بانواع مختلف مہیا کرتا چلا آیا ہے۔اُس قادر مطلق نے جس طرح پر فیض ناسوتی (متعلق بعالم اجسام) کل اقطار و اطراف عالم پر مبذول فرمایا ہے۔ویسے ہی اُمس ہمہ محبت ہمہ رحم نے فیض لا ہوتی در و حمانی کسی قوم کسی فرقے سے دریغ نہیں رکھا۔ہر زمانے ہیں۔ہر قوم ہیں۔ہر ملک میں بلکہ ہر فرقے میں انبیاء بھیجے۔اِن مِّنْ أُمَةٍ إِلَّا خَلَا وَيْهَا نَذِيرٌ - ر سیپاره ۲۲ - سوره فاطر - رکوع ۱۲ ترجمہ کوئی فرقہ نہیں میں میں نہیں ہو چکا کوئی ڈرانے والا) کتابیں اتاریں۔حکما و علما پیدا کئے۔اور خود انسان کی فطرت میں تعلیم و حانی رحمانی کے قبول کرنے کے لئے نور ایمان یا نور فراست ودیعت رکھا۔اسلیئے غالب آباد بہائے عالم میں نجر اصول قائم ہو گئے یا ہوتے رہے۔تمام اصول کی اصل توحید سب قوموں میں مشترک ہو گئی۔اور اصول اخلاقی مثلا شیا سعت۔عفت۔عدل - رحم کی عظمت اور صفات رزیلہ مثلا بر جنین - شہوت ظلم غضب اور جہال کی برائی کی کل قومیں قابل ہوگئیں۔گو نقص دکمال کا تفرقہ ہمیشہ سے چلا آیا اور ان مذاہب میں توحید صفاتی و عبادتی و حق و باطل میں کیا جاتا رہا۔الا مادَةُ الأَشْيَاء یعنی توحید ذاتی و اخلاقی وغیرہ ضرور قائم رہی۔اور بقدر معمول ہوتی رہی۔ہمیشہ سے رب الاخوان کا پیش نیمہ ایک ہی چھاؤنی میں لگا نہیں رہا۔اور ایک ہی یونیورسٹی اُس کی تعلیم کا مرکز نہیں رہی۔ایک ہی قوم تمام بلاد اور تمام بنی نوع کل بادیوں کی ہدایت کا سر چشمہ نہیں ہوئے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی یادی تھے۔کو