فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 361 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 361

کیا عجیب عادت ہے کہ جب یہ لوگ قرآن کی بعض تعلیمات اور قصص کو بعینہ توریت اور اپنی کتب مقدسہ میں موجود پاتے ہیں یا بہو کے تالو اور مجوس کی قدیم کتابوں میں دیکھ پاتے ہیں تو چلا اٹھتے ہیں کہ قرآن کتب سابقہ کا اقتباس ہے۔راہ رجب بعض تعلیمات اور جدید قصص قرآن کے کتب سابقہ میں نہیں پاتے انھیں محمد صاحب کے عنایات کہدیتے ہیں۔غرض دو ہی طرح کی باتیں قرآن میں ممکن تھیں۔یا وہ جن کی نظیر اگلی کتابوں میں موجود ہو یا نہ ہو۔سو تم اول کو اقتباس کہ دیا اور قسم دوم کا نام عندیات دھر دیا۔اگرچہ یہ امر کہ کونساند شب نمانیا عیسائی زیادہ تر مذہب یہود اور دیگر مذاہب قدیمیہ کا محتاج ہے۔ہر ایک پر روشن ہے۔مگر ہم خوشی سے امر مذکورہ کو تسلیم کریں گے۔کیونکہ جو مشابہت ان دونوں (مذہب یہود مذہب اسلام) ربانی الہامی مذہبوں میں پائی جاتی ہے۔اس سے انکار کرنے کے بدلے ہم اس کو اپنا نہایت فخر سمجھتے ہیں کہ ہم مسلمان ہی ایسے ہیں کہ ہر ایک سچے اور خدا کے بھیجے ہوئے نبی کے سچے پیرو ہیں۔اور ہم ہی یقین کرتے ہیں کہ آدم و نوح و ابراہیم بقوب و اسحاق و اسمعیل " و موسی و عیسی اور محمد صلوٰۃ اللہ م اجمعین سب کا ایک ہی دین تھا۔رحم 40 عليه ہم حیران ہیں کہ عیسائی صاحبان اتنا نہیں سوچتے۔کہ خدا تعالیٰ نے مخلوق کو محض اپنی رحمت ایجادیہ سے وجود کا جامہ پہنایا۔اور بلا سابقہ سوال یا درخواست یا خدمات و عبادات کے ہر طرح راحت و رفاہیت جسمانی کا سامان موجود کیا۔چاند سورج - زمین آسمان - نباتات - جمادات حیوانات۔غرض دنیا و مافیہا سب کچھ بنی آدم کی آب کش کے لئے خلق کیا۔اب غور کرنا چاہیئے کہ جب