فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 360 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 360

یہ بھی عقید ہ تھا۔کہ بنی اسرائیل ابراہیم کی اولاد ہیں۔ابراہیم کی راستبازی سے ضرور راستباز ٹھہریں گے (دیکھو عقاید فرقہ فریسی، عیسائیوں میں حضرت مسیح کی پرستش سے شرک جیسی بڑی آفت لکھو کہا بندگان الہی کے رگ و ریشے میں پھیل رہی تھی۔رومن کیتھولک وغیرہ میں حضرت مسیح کی والدہ مریم صدیقہ کی عبادت نے جو ہند و عرب کی بت پرستی سے کسی طرح کم نہیں ہزار ہا مخلوق کی عقلی قومی پر چھری پھیر دی۔عشائے ربانی کی رسم نئے جس میں رومن کیتھولک کا یہ عقیدہ بجز و ایمان ہے۔کہ روٹی کے وہ ٹکڑے ہو شراب میں ترکیئے جاتے ہیں۔اور وہ شراب حقیقت اور فی الواقع نہ مارا حضرت مسیح کا گوشت اور خوں ہو جاتی ہے۔ایک جم غفیر کو انقلاب ماہیت کے کن بڑے تو ہمات میں پھنسا رکھا تھا جب کے سامنے کیمیا گروں کی بو الہوسی اور ثبت پرستوں کا مورتوں کو بیودان دینا اور اُنکا ادارہن کرنا بالکل گرد ہے۔بین ادیان کی یہ حالت ہو اُن میں سے ایسا اقتباس کرنا جسپر تمام قانون قدرت گواہ ہو۔اور جسکے لیے نور ایمان اور تمام قوائے عقلیہ آمنا و صدقنا کہ اُٹھیں کیسی آدمی کا کام ہے۔آیا ایک بت پرست جاہل قوم کے نے الہام اتنی کا۔نہیں نہیں نہیں بلکہ ایک خاتم الانبیا ر سرور اصفیا کا قداہ ابی و امی۔ہم کو اس بات کے دیکھتے ہی کمال تعجب ہوتا ہو کہ عیسائیوں نے اپنی کتابوں اور تحریروں میں کیوں اس امر کے ثابت کرنے میں اس قدر بے فائدہ کوشش کی ہے۔اور اپنا وقت ضائع کیا ہو۔اور قوائے عقلیہ دماغیہ کو صرف کیا ہو جب سے ہم مسلمانوں کے مذہب میں بڑا تعلق ہو۔اور پچھلا پہلے پر مبنی ہے۔اور جب وہ اس امر کو نہایت سعی بے حاصل سے ثابت کر چکے ہیں۔تو از راہ طعن ہمپر یہ الزام لگاتے ہیں کہ ہمنے فلاں فلاں یہودیوں کے مذہب ہے لی ہے۔گو یا مذہب اسلام میں کوئی ایسی بات نہیں ہے۔جو خود وہ اصول پر قائم ہو۔بلکہ یہودیوں کے یہاں سے اقتباس کیا ہوا ہے۔اور جب کہ مذہب عیسائی بالکل مذہب یہود کا محتاج ہے ایسا ہی مذہب اسلام بھی مذہب یہود کا محتاج ہے۔