فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 358 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 358

۳۵۸ اصول حقہ کے ساتھ ناقص تعلیم کے ملجانے سے وہ عمدہ اصول چند برائیوں کے ساتھ ملھجاتے ہیں مسلمان یہ بھی ہوتاہے کہ ان عمدہ کو ناپاک عوارض سے و مصلحان قوم کا یہ بھی فرض ہوتا ہے کہ ان عمدہ اصولوں کو ناپاک عوارض سے پاک و یہ قوم پر فدا اور قوم کے دلدادہ بُرائیوں کے دشمن اور راستی کے جان دادہ ہوتے ہیں۔انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام اور حکمائے عظام کے وجود با سود سے تعظیم فائدہ دنیا کو پہنچتا ہو کہ وہ ان سب محمدہ رسوم اور پاکیزہ اصول کو جو انکے ظہور اور بعثت سے پہلے اُنکی رائج چلے آتے ہیں۔خواہ وہ بطور عادت ہوں یا بطرز عبادت ادیان حصہ کا قوم میں را بقیہ ہوں یا کتب مقدسہ کا عطیہ انہیں انکی حالت پر قائیم اور بحال رکھتے ہیں۔قوم اُس سوتے آدمی کے مانند ہوتی ہے جس کے دائیں بائیں آگے اور پیچھے ہرقسم کا سامان عیش و آرام کھانے پینے پہنے اور دیکھنے کا موجود ہو۔الہ وہ غافل اس کے استلذاذ سے محروم ہو۔اور نبی اُس بیدار اور ہوشیار خیر خواہ کے مثل ہوتا ہے۔ہجو باقتضائے فطرت اور جبلت کے اس سوئی ہوئی غفلت ی ماری قوم کو جگاتا ہو اور اس سوئی ہوئی قوم کو ان آرام کی اشیاء سے بہرہ مند ہونے کی ترغیب دیتا ہو۔انبیا علیہم السلام قدرتی صنائع اور بدائع کیطرف جن سے قوم غفلت کیوں سے چشم پوشی کر رہی ہے۔توجہ دلا کر قوم کو خالق کا عاشق بنانا چاہتے ہیں۔اور قدرتی اشیاء میں تدبر اور تفکر کی ترغیب دلا کر صانع عالمہ کا شکر گزار کرتے ہیں۔کیا وہ کوئی امر اپنی اٹکل سے گھڑ کر و ہمیوں کا دل لبھانا چاہتے ہیں۔اور کیا وہ مافوق الفطرة کرشمے دکھلا کر تو ہمات میں پھنسانے کی طرح ڈالتے ہیں۔نہیں اڑھائی اینٹ کی جدا مسجد بنانا اُن کا کام نہیں اور یہی بات بقول ایک خیر خواہ اسلام کے انکی راستی اور سچائی خیر خواہی اور بے ریائی کا شان ہے۔فِدَاهُم الى وامى -