فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 331 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 331

۳۳۱ ب تم میدان خود کو اور بھی وسیع کرنے کے لئے اس مضمون میں چند بانہیں بطور سوال کے لکھتے ہیں۔اور ہمیں امید ہے کہ یہی دو ایک نفسیمیں منصف کے نزدیک اثبات مدعا کے لئے کافی ہیں۔(۱) عرب کی اُسوقت کیا حالت تھی اور اسکی قومی تاریخ کیسے واقعات سے معمور تھی۔(۲) اسباب اور قرائن اور قدرتی طبع حالات کیا بتا رہے تھے۔(۳) ان دنوں میں اہل کتاب کی خصوصا اور دیگر اقوام دنیا کی عموما کیا حالت تھی۔ایسی حالت میں ایسے وقت میں ایسے اضطراب میں کسی استقلال اور جلال والی آواز سے قرآن فرماتا ہے۔پھر سکتے میں فرماتا ہے۔پہلی پیشینگوئی قل إن رها يقدتُ بِالحَقِّ عَلامُ الْغُيُوبِ قُل جَاءَ الْحَقِّ وَمَائبُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ - سیپاره ۲۲ - سوره سبا - رکوع ۶ - نجات کے طالبو۔دین حق کے خواستگار و خیالات این و آں سے تھوڑی دیر سر کو خالی کر کے ادھر منتوجہ ہو جاؤ۔سوچو کیا یہ زبر دست پیشین گوئی پوری نہیں ہوئی۔کیا ایک دنیا پر اسکی صداقت ظاہر نہیں ہو گئی۔تیرہ سو برس ہوئے دین کامل - توحید - صداقت کے آفتاب نے سرزمین عرب میں طلوع کیا۔جسکی روشنی نہ صرف عرب میں بلکہ کل اقطار عالم میں پھیلی اور پھیل رہی ہے۔اور جب سے کبھی مشرک۔کفر- بدعت - ثبت پرستی - بطلان کی کالی بدلی اس کے پر جلال نورانی چہرے کو محجوب نہ کر سکی۔نے کہار سے (اے محمد) میرا رب حق د دین حق) پھینکتا ہے (یعنی آسمان سے اتارتا ہے، وہ غیبوں کا جانے والا ہے۔تو کہر سے باطل ردین باطل، پھر نہ کبھی شروع ہوگا اور نہ خود کریگا ۱۲۔