فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 330
اسم باطنی ایمان کی مجسم موتیں تھیں۔اسپر حرام کاری زناکاری بیشتر بخوری (جو معبودان باطل کی پرستش کا لازمی نتیجہ ہے، کا وہ طوفان بیچ رہا تھا کہ خدانہ دکھائے۔قمار بازی نے خانہ ویرانی میں کوئی دقیقہ اُٹھا نہیں رکھا تھا۔ہوٹ۔ضد- حمیت - جاہلیت۔قومی نفرت کا وہ عالم تھا۔کہ با ایں ہمہ جہالت، دوسری ملتوں سے روشنی اور فیض لینا تو در کنار۔الٹا انہیں عجمی (گونگا) کا خطاب دیتے تھے۔اور یہود کی طرح سب قوموں کو میدن (غیر قوم کے نفرتی نام سے یاد کرتے۔ان کے ہمسایوں بنی اسرائیل (یہودیوں) کا حال شن ہی چکے ہو۔کیسی بد حالت میں مبتلا تھے۔نبیوں کے زمانے میں ان کی رفتار اور گفتار کے چہرے نے خوبی و پسندیدگی کے خدو خال سے کچھ جمال حاصل نہ کیا۔اور قبول عام کے زیور سے آراستہ نہ ہوئے۔اب تو اپر اور بھی جہالت کی گھٹا کالی بداطواری یہ بد اخلاقی کی موسلادھار بارش برساتی رہی تھی۔عیسائی پولیش چرچ کی کیفیت ایک دنیا پر ظاہر ہے۔بت پرستی ایک کین معظم انکے پاک مذہب کا تھی۔مریم کی صورت کی پرستش کن کن رنگوں سے اُن کی مقدس عبادتگاہوں میں جلوہ آراء تھی۔اور وساوس و تو ہمات کی خدمت گداری کی تفصیل کا یہ مقام متکفل نہیں۔کل یوروپین عالم اس کے شاہد ہیں۔جارج سیل صاحب کا مقدمۃ القرآن اس کا گواہ بس ہے۔یہ حال تو اہل کتاب کا ہو۔جو عیسائی علما کے زعم میں قوم عرب کے جگانے والے ہیں اور جن سے بڑھ کر مثل (خفته را خفتہ کے کند بیدا) کا مصداق شاید ہو نہیں سکتا۔اسوقت کی اور دنیا کی قوموں کا حال کہ کس قدر انسانیت کے شریف پائے سے گری ہوئی تھیں۔اور مخلوق پرستی کے ناقابل ذکر بیماری نے کیسا انکے ملکات کو تباہ کر دیا تھا۔مخفی و تاریک نہیں ہے۔ہند کی بت پرستی کی طرف نظیراً اشارہ کیئے بغیر ہم رہ نہیں سکتے۔جن میں سکتے کی پوجا اور لنگ کی پرستش اب تک معمول ہے۔اور تفصیل سے تعرض کرنا چنداں ضروری نہیں۔