فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 332
۳۳۲ اسی پر کیا بس ہو۔آپ نے بڑے اطمینان - الہی الہام سے پر جلال آواز بڑے جلسوں اور محفلوں میں تاکیدی الفاظ میں زور سے کہدیا۔قل جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِل كان زهوقا۔سیپاره ۱۵ سوره بنی اسرائیل رکوع ۹ پڑھنے والے دیکھے۔کیا یہ کلام قادر مطلق علام الغیوب کا نہیں۔کیا انسان کی کمزور زبان اپنے ناقص اور محدود علم سے ایسی پوری ہونے والی سچے اور بالکل بے خبر ے سکتی ہے۔نہیں نہیں۔ہرگز نہیں۔یقینا یقینا یہ اسی ہمہ قدرت کا کلام ہے جس کا علم کامل غیر محدود ہے۔جس کے دست قدرت میں قلب انسان کے انقلاب و تقلیب کی باگ ہے۔اور زمانوں اور قوموں کی تبدیل و تغییر اسی کے بس میں ہے۔اُسی پاک عالم الغیب خدا نے اپنے برگزیدہ عبد مگر رسول کے منہ میں اپنا کلام دیا۔جو اسی کے بلائے سے بولا۔اور اس کے بتائے سے بتایا۔کیا ہی سچ بولا اور کیا ہی ٹھیک بنایا۔فداہ اُمتی وابی صلی اللہ علیہ وسلم۔دوسری پیشینگوئی اُسی انا ارسلنا اليكم سُوا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُومًاه نعطى فِرْعَوْنُ الرَّسُولَ فَأَخَذْنَاهُ أَخَذَا و بیلاه سیپاره -۲۹ سُوره مزمل رکوع - اس جیگہ باری تعالیٰ اپنے پاک کلام میں میاں صادق کلام میں نبی عرب کو موسیٰ و کا مثیل و نظیر فرما کہ اہل عرب سے خطاب کرتا ہو کہ جیسے فرعونی موسی کے عصیان کے باعث تباہ ہوئے لے تو کہدے (اے محمد) اسلام آیا اور شرک بھاگا۔بیشک مشرک بھاگنے والا ہے ۱۲ یہ زبر دست پیشینگوئی فتح مکہ کے دن پوری ہوئی۔بیہقی میں این عمر یہ سے روایت ہر کلما مر بصنم اشار اليد بقضية و هو يقول الأية جب آپ کسی ب کے پاک سے ہو کر گزرتے اپنی لاٹھی سے اسکی طرف اشارہ کرتے اور آیت مسطور متن پڑھتے"۔سے ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھی ہے گواہ تمپر جب ہم نے فرعون کی طرف رسول بھیجا۔پس فرضوں نے اس رسول کا کہا نہ مانا پھر ہم نے اس کو ہلاک کرنے والی پکڑ سے پکڑا۔۱۲