فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page iii of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page iii

پہنچا تو وہاں میرا ایک ، ہم مکتب حافظ قرآن مسجد کا امام میرے سامنے تقدیر کا مسئلہ نے بیٹھا۔اور اُس نے اس شوخی سے اس مسئلہ پر بحث کی کہ مجھے اُسے علیحدگی میں کہنا ڑا کہ مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ عیسائی ہو گئے ہیں۔اُس نے جواب دیا کہ عیسائی ہو گئے ہیں تو سوچ ہی کیا ہے۔میں نے کہا۔اپنے گرد سے ذرا مجھے کو بھی ملاؤ، چنانچہ وہ مجھے پنڈ دادنخان ایک انگریز پادری کی کوٹھی پر لے گیا۔مگر اُس پادری نے باوجود میری بخشش اور حافظ صاحب کے زور لگانے کے بحث سے گریز کیا اور کہا کہ میں زبانی گفتگو نہیں کردونگا ہاں بعد میں اعتراضات لکھ کر بھیجوا دونگا۔میں نے حافظ صاحب سے کہا کہ جب تک ان کے اعتراضات ہمارے پاس نہ پہنچیں اور ہماری طرف سے اُن کا جواب نہ ہوئے اُس وقت تک آپ بپتسمہ نہیں۔پھر حافظ صاحب آپ کے مطالبہ پر کہ اگر کوئی اور بھی اُن 20 کی طرح عیسائیوں کے زیر اثر ہے تو اُس کے پاس لے چلیں آپ کو اسٹیشن ماسٹر کے پاس لے گئے۔اسٹیشن ماسٹر نے تو بڑی دلیری سے کہا مذہب عیسائی کا مقابلہ تو کسی مذہب - ہو ہی نہیں سکتا۔میں نے حافظ صاحب سے کہا کہ یہ تو پھنس گئے ہیں۔اور وہ حافظ صاب دہ سے پیر کو پادری صاحب خاور ہو گئے اور گفتگو نہیں کی حیران ہو گیا۔آخر اس پادری نے ایک بڑا ملدمار اعتراضوں کو لکھ کر بھیجا۔میں نے حافظ صاحب سے کہا کہ بتاؤ یہ کوئی ایک دن کا کام ہے ؟ انہوں نے کہا۔نہیں۔میں نے کہا تم ہی مدت ئے مقرر کرو۔حافظ صاحب نے کہا کہ ایک، برس تک کتاب چھپ کر ہمارے پاس پہنچ جاتے میں عیبوں آیا۔اُس زمانہ میں زارا نے بہت آئے تھے ، راجہ پونچھ کا بیٹا زلزلوں کے سہب پاگل ہو گیا۔اس نے جوں کے راجہ کو لکھا کہ ہم کو ایک اعلیٰ درجہ کے طبیب کی ضرورت ہے۔چنانچہ میں وہاں گیا۔بھکو شہر سے باہر ایک تنہا مکان دیا گیا۔بس