فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page iv
ایک مریض کا دیکھنا اور تمام دن تنہائی میں وہاں بائیل اور قرآن شریف پڑھنے لگا۔ان تمام اعتراضات کو پیش نظر رکھ کر با میل پر نشان کرتا رہا۔پھر اس کے بعد قرآن شریف پڑھتا رہا اور نشان کرتا رہا۔اس کے بعد کتاب لکھنی شروع کی۔اور چار جلد کی ایک کتاب ر فصل الخطاب ) لکھی۔ادھر کتاب تیار ہوئی اُدھر راجہ کا لڑکا اچھا ہو گیا۔اب روپیہ کی فکر تھی کہ کتاب چھپے۔راجہ پونچھے نے کئی ہزار روپیہ دیا۔جب جموں آیا تو راجہ صاحب جنہوں نے پوچھا کیا دیا۔میں نے وہ تمام روپیہ اُن کے آگے رکھ دیا۔وہ بہت ناراض ہوئے کہ بہت تھوڑا روپیہ دیا۔چنانچہ اُسی وقت حکم دیا کہ ان کو سال بھر کی تنخواہ اور انعام ہماری سرکار سے ملے۔میں نے وہ رو پید اور دو جلدیں رتی بھیج دیں۔وہاں سے چھپ کر آئیں۔تو حافظ صاحب اور مثل اُن کے دوسرے لوگوں کو بھیجیں۔انہوں نے جواب میں لکھا کہ ہم سچے دل سے اب مسلمان ہو گئے باقی ضرورت نہیں " (مرقاۃ الیقین صفحہ ۱۴۹-۱۵۰) اس کتاب میں میں حکیمانہ انداز اور خوش اسلوبی سے عیسائیت کی تردید اور دین اسلام اور حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قرآن مجید پر اعتراضات کے تسلی بخش جواب دیگر اُن کی حقیقت، اور صداقت کو آفتاب نیمروز کی ماننار واضح کیا گیا ہے اس کتاب کی خوبیوں اور محاسن سے متعلق مجھے اپنی طرف سے کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں۔بلکہ سلطان العلم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کتاب (فصل الخطاب) اور اس کے مؤلف کی دوسری تصنیف تصدیق براہین ! " سے متعلق جو تعریفی کلمات اپنی کتاب آئینہ کمالات اسلام میں بزبان عربی تحریر فرماے ہیں اُن کے ترجمہ کا پیش کرنا ہی اس غرض کو پورا کرنے کے لئے کافی ہے۔