فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 253 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 253

۲۵۳ کی کتاب میں گذشتہ زمانہ کا حال معلوم ہوتا ہے۔اگر آئندہ زمانہ لیں تو ہم کہ سکتے ہیں کہ گندی لوگوں اور اُن کی تعلیم کا اشارہ ہے جن کی بدولت اس ملک میں کامل تو جب پھیل۔اور اقسام بت پرستی کا استیصال ہوا۔اور مسیح بھی جیسے تھے۔ویسے مانے گئے۔مسیح کی چھٹی بشارت اب میں اپنے رسول کو بھیجوں گا۔میری برا بر راه کو تیار کریگا اور جس خداوند کی تلاش میں ہو یعنی رسول عہد کی اور اُس سے خوش ہو۔یکا یک اُسی رمیکل میں آجاوے گا۔شکروں کا خداوند فرماتا ہے کہ اب وہ آتا ہے۔ملا کی ۳- باب ! یہ بات ملا کی نہبی نے بنی اسرائیل کو ندا کی عدول حکمی پر ملامت کرتے کرتے فرمائی۔اور اشعیا نبی نے بنی اسرائیل کو اور یروشلم کو تسلی دیتے فرمایا۔پکار نیوالا پکارتا ہے۔بیابان میں خدا وند کیلئے ایک راہ طیار کرو۔اور جنگل میں ایک شاہراہ میری خدا کے لئے درست کرو۔اشعیا ۴۰ - باب ۳ - متی مرک لوک - تینوں متفق اللفظ کہتے کہ یہ دونوں بشارتیں مسیح کے حق میں ہیں۔کیونکہ یوحنا کا اصطباغ دینا مسح کیلئے راہ بنانا ہے۔اور یوحنا کا کہنا کہ میرے پیچھے اور آتا ہے پکارنے والے کی آواز ہوگی۔متنی ۳ باب - مرک - - باب - لوک - - - -باب- セッ غور کرو۔یہ ور بخلاف اسلام مینی کو نبی نہیں مانتے۔پرانے عہد میں صاف طور پر انکا ذکر نہیں۔بیٹی کی کوئی کتاب موجود نہیں۔اناجیل میں جو اقوال ہیں۔وہ زبانی روایات ہیں۔راویوں کا نام مندرج نہیں۔عیسائی یقین کرتے ہیں کہ یہ کتا بیں روح القدس کے وسیلے سے مرقوم ہوئیں۔اتھ مسلمان لوگ جس طرح اپنے جنابے کے حواریوں کی سند مانگتے ہیں۔اس طرح نوٹ۔عیسائی لوگ کبھی خوش نہیں ہوتے کہ مسلمان احادیث صحیحہ سے اُن کے سامنے کوئی مستند ا مر پیش کریں۔بلکہ اسپر سخت جھنجھلاتے ہیں۔افسوس ان مسکینوں کو علم حدیث سے مطلق واقفیت نہیں کہ اہل