فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 252 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 252

۲۵۲ کے پاس ہے اور ہیرو کے زیر حکم تھا۔آسان طورسے میرہ تحقیق کرسکتا تھا کہ جوس کس گھر میں اُترے اور کس لڑکی کے آگے بزرگذرانی سوم پر سیاہ کی آیت کا ماقبل اور مابعد دیکھو صاف صاف یہ اس حادثے کا بیان ہے۔ہو بخت نصر کے وقت بنی اسرائیل پر ارمیا کے جو زمانے میں نازل ہوا۔اور ہزاروں اسرائیلی اِس میں قتل ہوئے۔ہزاروں اسیر ہوئے اور بابل کی طرف جلا وطن ہوئے۔اور ان میں اکثر راحل کی اولاد تھے۔یادر ہے۔ارمیا کی آیات سے معلوم ہوتا ہے۔مرے ہوئے لوگوں کو برزخ میں اپنے اقارب کے دنیوی حالات پر اطلاع رہتی ہے اور انکے صدمات سے اموات کو صدمہ پہنچتا ہے اور یہ بات پر وسٹنٹی عقاید کے خلاف ہے۔مسیح کی پانچویں بشارت تنگی کی ظلمت جس میں زمین مبتلا ہوئی ہے باقی نہ رہیگی میں طرح اگلے زمانے میں زبولو کی زمین اور نفتالی کی زمین کو حقیر کر کر۔آخر اسی طرح در بیا کیطرف داردن و فرات کے کنارے جلیل میں بڑے بڑے قبیلے ہونگے۔جو قوم کے اندھیرے میں چلتی ہو تو عظیم دیکھیں گی۔اور مورکے سائے کی زمین کے رہنے والوں پر ایک نور چمکے گا۔اشعیا - باب او ۲ - اشعیا نبی نے یہ بیان کرتے کرتے کہ اب بیت المقدس (یروشلم) میں تکلیف نہ رہیگی یہ بات فرمائی۔متی کہتے ہیں۔یہ بشارت سیح کے حق میں ہے۔کیونکہ جب سیج نے سنا بھی گرفتار ہوا تو آپ جلیل کو چلے گئے اور ناصرہ کو چھوڑ کفر ناحوم میں دریا کے کنارے زبولوں اور نفتالی کی حدود میں جا رہے۔متنی ۴۔باب ۱۲ ۱۳ ۱۴ و ۱۵ نکر کرو اقل متی نے صرف اتنے لگاؤ پہ کہ مسیح دریا کے کنارے پر جا رہے اشعیا کا قول بشارت بنا لیا دوم اشعیا کی آیات کومت کی آیات سے مقابلہ کریں تو دونوں ایک معاومہ نہیں ہوتیں ہنوما شیاں