فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 254 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 254

۲۵۴ مسیح کے حواریوں کی سند پوچھتے ہیں۔۔بشارات ام مصطف مجتبی رحم عالم و عالمین صلی اللہ علیہ و سلم احمد پہلی پیشین گوئی۔حضرت ابراہیم اپنے بیٹے جاب آملیں اور انکے سکن کیلئے دعا کرتے ہیں۔چونکہ تورات میں ابراہیمی واقعات اور تعلیمات کا بہت مفصل ذکر نہیں۔اور اسمعیلی معاملات کا اور بھی کم ذکر ہے۔اسلیئے تو رات میں اس دعا کا ذکر جمال ہے۔اور قرآن میں تفصیل اور نتیجہ دوعا اور اسکی قبولیت کا بیان چونکہ پیشین گوئی میں نہایت مطلوب تھا۔اسلئے وہ نتیجہ توریت میں مجمل اور قرآن میں فصل بیان ہوا۔د إِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَذَا بَكَدًا أمناء ارْزُقُ أَهْلَهُ مِنَ الثَّرَاتِ مَنْ آمَنَ مِنْهُمْ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الأخير سيارة - سورة بقر - ركوع -۱۵ 1 اذير فَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَعِيلُ رَبَّنَا تَقَبَّلُ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ رَبَّنَا وَ جَعَلْنَا مُسلميْنِ لَكَ وَمِنْ ذِرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةَ لَكَ وَارِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ - پاره -- سوره بقر رکوع ۱۵ - الے اور جب کہا ابراہیم نے اسے رب کہ اس شہر کو امن کا اور روزی سے اسکے لوگوں کو میوے، جو کوئی ان میں یقین ناوے اللہ پر اور پچھلے دن پڑا ہے اور سب اُٹھانے لگا اور اسی بنیادیں اس گھر کی اور ہمیں۔اے رب ہمارے قبول کر ہم سے تو ہی ہی اصل سنتا جانتا۔اسے اب ہمارا اور کرم کو کم بر دار اپنا اور ہماری اولاد میں کبھی ایک امت حکم بردار اپنی۔اور بتا سجا دستور حج کرنیکے اور مہکو معاف کرہ تو ہی ہو اصل مربان کر نیوالا مہربان " بقیہ حا۔اسلام نے کس قدر احتیاط علم کے اخذ میں کی ہو۔دنیا میں اگر کوئی تاریخ کوئی بڑی جلیل الشان کتاب کوئی معتبر قوی روایت اعتبار کے قابل ہو سکتی ہے تو حدیث صحیح بطریق اولی قابل وثوق و وقعت ہو سکتی ہے۔کس خوبی سے ہر ایک امر کا سراغ ہادی اقدس علیہ الصلاۃ تک لگایا گیا ہے۔کہ خود محققین یو اپنے عقلا اسکے معجزہ ہونے کا اقرار کیا ہے۔اناجیل اربعہ جو بعد زمانہ دراز مسیح کے مجهول الاسم و الرسم لوگوں نے تحریر میں حدیث صحیح ہے کچھ مناسبت نہیں رکھ سکتیں۔ہمارے پاس قاطع دلائیں و مد اس امر کے ہوتے ہیں کہ کتابہ جمع الاحادیث کا کام آنحضرت کے مین حیات ہی ہمیں آغاز اور تابعین کے عہد میں تو مہ کمال کو پہنچا۔ا