فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 251
۲۵ میٹی کی معرفت خدا مصر سے نایا۔بنی اسرائیل اپنی پسنی کے باعث بچپن کی حالت میں تھی۔اور بنی اسرائیل کا بیٹا ہونا ہو شیع۔باب : روحی 4 باب ۲- استثنا ۱۲ باب ؛ و ۳۲ - باب ۱۹ - سے ثابت ہے۔اسی احسان کو خدا ہمیشہ بنی اسرائیل پر مسیح سے آگے ظاہر کر تا رہا۔دوم اس آیت میں مسیح کی خصوصیت نہیں۔اور سی نہ اسرائیل۔نہ اسرائیل کی نسل۔کیونکہ عورت سے یہود میں نسل نہیں چلتی۔سوم یہ دوسرا باب مستی کا لوقا کے دو کے باب سے متفق نہیں۔اگر تا دیل سر موافق کرتا ہو۔تو بشارات محمدیہ میں تاو بلا سے کیونکر انکار مکن ہی چہارم - تشیع کی کتاب مطبوعہ اسلام میں ہو۔ان اسرائيل منذ كان طفلا انا احببته ومن مصر دعوت اولادہ اور ۳۳داء میں اولاد کی لفظ کو جو جمع تھی مفرد کر دیا گیا۔اور غائب کی ضمیر کے بدلے میں تکلم کی ضمیر رکھ دی۔نجم یہ قصہ اور اس کے مصداق وہ لوگ ہیں۔جنہوں نے تعلیم ثبت کی قربانی کی اور لم بت پرست تھے۔اور سیح بت پرست نہیں تھے۔چوتھی بشارت مسیح کے حق میں برا ماہ میں دھاریں مار کہ رونے اور نالہ کرنے کی آواز سنائی دیتی ہو کہ راحیل اپنے بیٹوں کیلئے روتی ہے اور تسلی نہیں پاتی۔کیونکہ وہ نہیں ہیں۔پر میا اس باب ۱۵ حضرت ملتی اس کو مسیح کی بشارت یقین کرتے ہیں اور کہتے ہیں سیح پیدا ہوئے۔تو ہیرود نے اس شبہے پر کہ کون بچا ہو ہو بیٹے ہوگا۔بہت کم اور اسکی سرحد کے لڑکوں کو قتل کرایا۔مستی ۲ - باب ۱۲- بنگر اول میرود کا یہ ظلم عیسائیوں کے سوا کسی مورخ نے بیان نہیں کیا۔یوسفیں اور یہودی مورخ جو میرود کے معائب لکھنے میں دلیر ہیں اس قصے سے ساکت ہیں۔دوم بہت کم کو علم لے اسرائیل کو بچپن سے میں نے پیار کیا۔اور مصر سے، اُس کی اولاد کو بلایا۔