فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 248 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 248

۲۴۸ اور کتاب سابق کا عالم بھی کافی گواہ ہے۔سابق کتر کے علما و طرح گواہ ہیں۔اول اس طرح کہ ان سے کتب سابقہ کو سیکھ کریم خود محمدی بشارات وکتب سابقہ سے نکالیں۔دوم اس طرح پر کہ جس طرح وہ اپنے انبیاء اور رسل کی نبوت اور رسالت کو ثابت کریں۔اسی طرز پر ہم بھی نبوت اور رسالت محمد عربی کو ثابت کریں جسقدر اور انبیاء کی بہو کے بوت دنیا میں لوگوں کے پاس نہیں۔اس کی نظیر کے کل ثبوت اور قانون قدرت سے موافقت کا بھاری ثبوت محمد عربی کی نبوت اور رسالت کے واسطے موجود ہے۔ایک لطیف امر یاد رکھنے کے قابل ہو کہ اسماء کا ترجمہ مضامین کو سخت وقت میں ڈالتا ہو۔اور اہل کتاب کی عام عادت ہے کہ اسماء کا ترجمہ کر دیتے ہیں۔ایسا ہی تفسیر کو متن سے ملا دینا بڑا عیب ہے۔کیونکہ تفسیر تفسیر کا خیال ہوتا ہے۔جس میں صحت اور غلطی دونوں کا احتمال قوی ہے۔بشارات میں نقص نہایت مضر ہوا۔محمدی بشارت جیسے سلیمانکی غزل الغزلات میں ہے۔اگر اس میں لفظ محمدی کا ترجمہ نہ کیا جاتا۔تو کیسی صاف تھی۔اور نمونہ ۸ - باب ۳ - اشعیا - مہر شالال حشفیز نام بند۔اور عربی ترجمہ شائر میں ہے۔ادع اسمه اغنم بسرعة و انهب عاجلا شیخ کی پہلی بشارات رصین اور فتح نے باہمی اتفاق سے احاذ پر چڑھائی کی۔احاذ نے گھبرا کر اشعیا سے پر تسلی چاہی تب اشعیا نے کہا کہ ایک علمہ (جوان یا کنواری) کو حمل ہوگا، اور وہ عمانوئیل نام بیٹا بنے گی۔ابھی وہ ہوشیار نہ ہوگا کہ تیرا ڈر دور ہوگا۔اشعیاء باب ۱۴۔پھر اشعیا کے آٹھویں اور نویں باب میں ہو کہ وہ لڑکا پیدا ہوا۔اور اسکا نام ماہر شالال ہا شبنز رکھا گیا۔جب لڑکا اکیس برس کا ہوا فتح کا ملک خراب ہوگیا۔اور حجاز کا ڈر جاتا رہا۔بنسن کہتا ہے۔یہ عورت اشعیا کی بی بی تھی۔با این متی نے کہدیا۔یہ بشارت مسیح کے حق