فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 249 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 249

میں ہے۔جو کنواری سے پیدا ہوا ہے۔متی 1 - باب ۱۸- ۲۳ - اول غور تو کر دوستی نے کیا کہ دیا۔یہ بشارت کب اور کس مطلب پر کی گئی ہے۔اور کہاں لگائی گئی۔دوم پھر علمہ کا ترجمہ کنواری کیا۔سلیمان کی امثال فنسن میں میں لفظ ہے اور وہاں اس کے معنی ایسی جوان کے ہیں۔ہوا بیا ہی ہو۔فری نی ڈکشنری ہیں۔اور یونانی ترجموں ایکو ملا۔اور تہوڈوشن اور کمیکس من جوان کے معنی ہیں۔تہذیب الاخلاق - مونم مسیح کا نام کسی نے بھی عمانوئیل نہیں رکھا۔نہ آپ نے نہ آپ کی ماں نے اور نہ باپ نے۔بلکہ فرشتے نے بھی یہی کہا۔کہ اسکا نامہ یسوع رکھنا۔ہی چہارم اگر علمہ کے معنی کنواری لیں تو بھی سیج پر چسپاں نہیں مسیح حسب اقوال انا جبیل ابن یوسف ہیں۔متی ۱۳ باب -۵۵ یوحنا باب ۲۲ و ۱۰ - باب ۴۵ - لوقا ۲ - باب ۳۷ - و ۴۱ - و ۴۸ - پس اناجیل کو صاف واضح ہو کہ سی این انسان تھے میتی میں خو نسب نامے میں کی این داؤد کہا ہے۔اگر یہ عذر تراشا جائے کہ نسب نامہ لحاظ صدیقہ مریم کے ہو تو اسپر یہ اعتراض کہ یہودی شرح میں نسل کاسلسلہ اور کیطرف و قائم نہیں ہوسکتا۔اور سب نام میں مریم کا نام بھی نہیں۔اور یوسف نے کبھی باپ ہونے س انکار نہیں کیا۔یہ کام صرف انجیلی فداق پر پچی خلاصہ بیتی نے اشعیا کی کتاب سے ایک بشارت مسیح کے حق میں نکالی۔حالانکہ وہ واقعہ کنواری یا جو ان کے پیٹ سے عمانوئیل کے جمنے کا واقعہ مسیح سے پہلے اشعیا کے زمانے میں گذر سکا۔یہ کام متی کا بالکل الہامی نہیں۔والا ایسا غلط نہ ہوتا۔دوسری پیشینگوئی به نسبت مسیح علیہ السلام میکاہ نبی نے بہت سے واقعات آئندہ کو اشارات اور کنایات میں بیان فرمایا اور انہیں