فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 247
۲۴۷ عادت کے باعث ہے مذہب کے سخت سے سخت حبیب اور کمزور دلیل کو دو سے مذہب کی مندگی د قوی دلیل سے مقابلہ کرتے وقت اُسی عیب کو ترجیح دیئے جاتا ہے۔اور اس ترجیح میں کبھی معذور سمجھا جاتا ہے۔مگر منصف مزاج اور خداوند نیما کی بادشاہت کے طالب اور سزا سے ڈرنے والے کو یہ مرحلہ طے کر لینا بہت ہی سہل ہے۔ئیں نہایت جرأت اور دلیری اور راستی اور سچائی سے کہتا ہوں کہ محمد رسول اللہ کی بشارات پر منصفانہ اعتراض کبھی نہیں ہو سکتا۔اور کوئی منصف بعد خورد قاتل کے ان محمد یہ بشارات کا انکار نہیں کر سکتا۔ہٹ دھرمی اور ضدیت کا جواب خدا ہی دے۔منصفوں اور نجات طلب تلاشیوں اور راستی سے جانچ پڑتال کرنیوالوں کے سامنے عیسو یہ بشارات اور محمد یہ بشارات کو بیان کرتا ہوں۔تاکہ انکو مقابلے اور موازنے کا موقع ملے۔میں نے بشارات کے بیان میں سیجی بشارات کو اسواسطے پہلے لکھا ہو کہ عیسائیوں کو تحصد سے بچنے اور عیسوی مذہب کے مقابلے میں محمد کی بشارات پر اعتراض کرنے میں نور ایمان اور راستی ملحوظ رہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اثبات نبوت پر قرآن ہدایت کرتا ہو اور سکھلاتا ہے کہ منکروں کو یہ جواب دو۔وَيَقُولُ الَّذِينَ كَفَرَ وَالسْتَ مُرْسَا، قُلْ كَفَى بِاللهِ شَهِيدٌ أَبَيْنِي وَبَيْنَكُم وَمَنْ عِنْدَه علم الكتاب - پاره ۱۳ - سوره رعد - رکوع ۶ - کیا معنی کہ محمد کی رسالت اور نبوت کے ثبوت پر قانون فطرت جو خدا کا فعل ہے۔گواہ ہے۔کیونکہ مذہب خدا کا قول اور قانون قدرت باریتعالی کا فعل ہے۔اور لازم ہے۔کہ باری تعالیٰ کے فعل اور قول دونوں باہم متوافق ہوں۔ے اور کہنے میں منکرلوگ کہ تو رسول نہیں تو کہے میری نبوت پر خدائی ثبوت کائی ہے۔اور وہ ثبوت جو الہامی کتاب کے علماء کے پاس ہے ۱۲۔