فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 246
۲۴۶ باب (1) اپنے رب اور مخلص مالک سے بیخبر رہا۔بلکہ منی ا باب ۲۔اور لوقا ہے باب ۱۹۔سے یوحنا کا تردد آشکارا ہے۔کا بہنوں کا وہ ریس قیا ناچنے جناب سے اسے قتل اور کفر اور اہانت کا فتویٰ دیا۔متی ۲۷ - باب - حسب انجیل یوحنا 1 - باب اللہ نہیں تھا۔اگر وہ حضرت بیع کو اچھی طرح پہچانتا تو کا ہیکو ایسی سخت اور خطرناک فتوے کا مفتی بنتا۔یو منانے یہ میاء کے ۲۰ باب ۳۰ سے جو پیشینگوئی اپنی نسبت فرمائی ہو کہ میں و جنگل میں پکارنے والے کی آواز ہوں کہ خدا وند کی راہ صاف کرو۔دیکھو متی اور لوقا ۳ باب اور مرقس اور یوحتنا اباب۔اس بشارت پر غور کرو کیسی عمل اور تا ہے۔اگر جناب یوسنا اس بشارت کو اپنی نسبت بیان نہ کرتے۔اور مصنفان اناجیل اس بشارت کو یوحنا کی نسبت تسلیم نہ فرماتے۔تو کوئی بھی اس پیشینگوئی کو جناب یوسن پر منحصرنہ خیال کرتا اسلئی کہ یہ بشارت بہت سے اُن انبیاء پر بھی صادق آسکتی تھی۔جو اشعیا کے بعد ہوئے۔بلکہ جناب مسیح پر صادق تھی۔جو آسمانی بادشاہت کے قرب کی منادی فرماتے تھے۔اس تمام بحث سے یہ ثابت ہو گیا کہ بشارات نبوت کا مفصل ہونا ضرور نہیں۔اگر بشارات کا مفصل ہونا ضروری ہو تو ہر ایک عاقل اور بشارات کا واقف اور انکی مباحث پر دھیان کرنیوالا جانتا ہو کہ بشارات پر دو قسم کے اعتراضات واقع ہوتے ہیں۔ایک وہ اعتراض جس کی بنا ضدیت اور بہٹ دھرمی یہ ہوتی ہے۔دوسری دو جنکا مدار انصاف اور راستی پہ ہو۔پادریو ! تمہارے نزدیک جن لوگوں نے مسیح کی بشارت پر اعتراض کئے ہیں وہ لوگ ان اعتراضوں کے باعث ہندی اور ہٹ دھرمی خیال کیئے گئے کہ نہیں۔ہاں یہ بات ضرور ہے۔جب کوئی انسان کسی مذہب کا پابند ہو تو اس سے دوسرے مذاہب اور دوسرے ہادیان مذہب کی عظمت اور بزرگی کی جانچ میں غلطی ہو جاتی ہے۔اور