فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 214
۲۱۴ جسکے ہاتھ میں آسمان کی کنجیاں تھیں میسی کو ملعون کہ اٹھا۔بھلا لعن میں تو توجیہ ممکن جان پہچان سے انکار کر گیا۔اور بارہ تختوں میں سے ایک تخت کا وارث بنا رہا بعفو ہونا۔۱ قرنتی - - باب ۱۵ اور پہلا پتھر ہونا میتی ۱۶ باب ۱۸ کنجیوں کا مالک مینتی ۱۶ با ملے یہی پطرس پہلے تو یہ جھوٹ بولتا ہے کہ میں مسیح کو نہیں جانتا۔متی ۲۶ باب ۷۰۔پھر قسم کھاتا ہے میں مسیح کو نہیں جانتا۔متی ۲۶ باب ۷۲ پھر سمیع کو ملعون کہتا ہے اور ملعون کہہ کر بولتا ہے۔میں نہیں جانتا۔متی ۲۶ باب ۷۴۔حقیقی جواب - انسان کی کمزوری کبھی جبر و اکر او یوقت جھوٹ پر مجبور کرتی ہے۔آیت مذکورہ سوال میں یہ لکھا ہے کہ ایسی حالت کے جھوٹ پر کفر کا فتویٰ نہیں والا شرک اور جھوٹ کی نسبت قرآن میں جو کچھ موجود ہو اسے دیکھو۔لکھا ہو۔لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ۔اور قرآن میں ہے۔إنما يقارى الكَذِبَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِايَاتِ اللہ اور حدیث میں ہے۔تُشْرِكْ بِاللهِ وَإِن تُطِعْتَ أَو حرقت ۱۴ اعتراض - وَالْجَانَ خَلَقْنَاهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَارِ السَّمُومِ - سيپاره ، سورہ تجھی رکوع ۱۳ - ۲۷ آیت۔ہم نے جان کو لو نکی آگ سے بنا یا سبحان الہ کیہ فلسفی ہو۔جواب یہ سچی فلسفی الہی کلام ہے۔تمام وہ لوگ جنکے اچھے اعمال نہیں یا اُنکے اچھے اعمال کم ہیں۔وہ دوزخ میں جائینگے۔دوزخ کی گود میں رہینگے۔وہی انکی ماں ہو دیکھو قرآن أمَّا مَن حَقَّتْ مَوَازِينَا، فَأمَّهُ هَادِيَةٌ وَمَا أدْراكَ مَا هِيه نار حامية - سیپاره ۳۰ - سوره قارعه - رکوع - بھلا جن کی ہاں دور سے کی گرمہ تنگ ہوئی۔اردو کی آگ سے نہ بنے ہوں تو پھر کس ہو نہیں۔سے جھوٹ وہی لوگ بناتے ہیں جواللہ کی آمدن پر ایمان نہیں لاتے اللہ اللہ کا متریک نہ بنانا اگرچہ کاٹا جائے یا بلایا جائے اس سے اور کیکی تو ہکی ہوئی تو اسکا لن گانا گڑھا اور تجھ کو معلوم ہواکہ وہ کیا ہی آگ ہے دمکتی ہوئی ؟