فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 204
اعتراض - سوره طله ، رکوع۔جو قرآن سے منہ پھیرے اُس کی معیشت تنگ ہوگی۔یہ باطل ہے۔کروڑوں قرآن کو نہیں مانتے اور اُن کی معیشت تنگ نہیں۔اور متبعان قرآن تنگ ہیں۔اور لڑائیوں میں دُکھی ہوئے۔جواب بھلا کتب مقدسہ میں نہیں لکھا۔ہاں شریر کا چراغ بجھایا جائے گا۔۱ باب ۵ - ایوب - تنگ عالی اسکے پاس مستعد ر میگی ۱۸ باب ۱۲- ایوب۔وہ ویران شہر میں ۱۸۵ یسے گا۔۱۵ باب ۲۸ - پر جانتے ہو۔بہت شریہ خوش ہیں۔نہیں بات یہ ہے شریروں کی خوشی کرنی تھوڑے دن کی ہے۔اور ریا کاروں کی شادمانی لمحے کی۔۲۰ باب ۵ - ایوب پس جو لوگ قرآن کو نہیں مانتے۔اُن پر معیشت بیشک تنگ ہے۔اُن کا چراغ گل ہو گا۔معیشت - خنگ تنگ حالی اُن کے پاس مستعد رہیگی۔وہ ویران شہروں میں لیں گے۔ان کی شادمانی لمحے کی ہے۔قرآن بھی کہتا ہے۔مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيل- پونجی دُنیا کی تھوڑی ہے۔دوسرے جملہ اعتراض کا جواب۔وہ دکھ جو خدا کے لئے ہو ایک بخشش ہے۔فلپسی باب ۲۹ - وہ دکھ جو خدا کے لئے ہر خوشی کا باعث ہے۔اعمال در باب ۴۱۔کیونکہ باپ کے ہاتھ سے کتا ہے۔یوحنا ، ایاب ۱۱- یہ پیالہ ہے نہ سمندر۔زبور ۷۵ - ۸ - اسمیں غوطہ لگا کر مرتے نہیں ۷۵-۸ اور آرام سے نا امید نہیں۔یسعیاہ ۴۳ باب ۲- ۲ قرنتی ۴ باب ۸ - پادری صاحبو۔یہ ایسی بات ہے۔جیسی لوقا کہتے ہیں۔تمہارے سر کے بال بھی نہ ہیں۔اور یہ بھی کہ دوسے قتل کرینگے لوقا ۲۱ باب ۱۶- ۱۸ - اورمتی ۲۴ باب ۹ - ایک اورحقیقی جواب بخاری میں لکھا ہو۔منگ کے معنی شقاوت اور بار بختی کے ہیں۔اور یہی معنی ابن عباس نے لیئے ہیں۔پس سوال کا موقع ہی نہ رہا۔اعتراض۔سورہ کہف میں سکندر کا قصہ ایسا عجیب و غریب بیان ہوا ہر جسکی کچھ حد نہیں۔یہ قصہ مصنف قرآن کی کم علمی پر بڑی دلیل ہو۔سکندر روحی کے روز نا مجھے موجود ہیں۔اُن میں کہیں یہ موجود نہیں۔سکند سورج ڈوبنے اور سورج پڑھنے کی جگہ نک