فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 203
٢٠٣ کے وقت بارہ تختوں پر بیٹھو گے۔۱۹ باب ۲۹ متنی۔اگر کہو سیمی بشارات اور پطرس کی خوشخبری مشروط تھی۔بدون شرط نہیں۔تو ہم کہتے ہیں سمجھی اور پطرسی شرط کا تو ذکر انجیل میں نہیں۔قرآنی بشارات کا خود قرآن میں ذکر ہے دیکھو آيت لَئِنْ أشركت لتخبطنَ عملك مطلب یہ ہو کہ اگر خاتمہ ایمان پر ہوا۔تو تیرے گناہ معان ہیں۔اور سفو فتحنا لک فتحا مبینا کے معنے آپ لوگوں کو معلوم نہیں۔اس آیہ شریف کی تفسیر کیلئے قرآن ہی عمدہ تفسیر ہے اور وہ آیت مفسرہ آیت اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ وَوَضَعْنَا عَنكَ وِزْرَكَ هو فتح سے مراد ہے دل پر علوم باری اور آسمانی بادشاہت کے اسرار کا کھولنا اور تب وہ کھلتے ہیں تو تو بہ او خشیت اور خوف الہی پیدا ہوتا ہے جسکے باعث گناہ نہیں رہتے۔انسان نئی زندگی پاتا ہے۔نیا جلال حاصل کرتا ہے۔ایک اور جواب سنیئے میسیع حواریوں کو فرماتے ہیں۔جن کو تم بخشو انکے گناہ بخشے جاتے ہیں۔اور جنہیں تم نہ بخشو گے نہ بخشے جائیں گے۔یوحنا ۲۰ باب ۲۳۔بھلا جہاں مچھوں اور ٹوریوں کو گناہ بخشنے کا اختیار ہے۔وہاں باری تعالیٰ کو ایک خاتم الانبیاء کے گنا بخشنے کا اختیار کچھ تعجب انگیز اور محل انکار ہے۔ہر گز نہیں۔بیشک اللہ تعالے نے نبی عرب حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کو فتوحات دیں۔ظاہری فتوح فتح مکہ غیر جسکے ظہور سے بت پرستی کا استیصال اس شہر سے کیا عرب جیسے بت پرست ملک سے ابد کے لئے ہوگیا۔اور تمام دنیا میں توحید ربوبیت کے علاوہ توحید الوہیت کا شور مچ گیا۔اور مختلف قبائل عرب لوٹ مار کرتے۔منشراب خوری اور جوئے بازی پر فخر بگھارتے سراسر اخلاق مجسم پورے موحد ہو کر نیک چال پر آگئے۔اتنی ہدایت پھیلانے سے ہادی کے گناہ معاف نہ ہوئے ہوں۔بالکل عقل کے خلاف ہے۔اور فتوحات باطنی کا حال آگے لکھ چکا ہوں۔