فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 197
196 کیوں صاحب ! اب بھی سختر کے معنی حل ہوئے یا نہیں۔پیچ گر اسپر بھی نہ تم سمجھو تو میں تم سے خدا سمجھے اجی جناب پادری صاحب! یہ وہ تسخیر نہیں جس کی اُستاد صاحب آپ کو تعلیم کرتے ہیں۔کہ اگر تم رائی کے دانے کے برابر ایمان رکھتے تو اگر پہاڑ کو کہتے کہ اپنی جگہ سے مل جا تو مل جاتا ہے اب ہم مضمون آیت متنازعہ فیہا کی طرف رجوع کرتے ہیں۔اصل قصہ یوں ہے کہ بنی اسرائیل میں پہلے پہل حضرت سلیمان علیہ السلام نے ہوا سے ایک خاص کام جس کا ذکر انعام کے طور پر باری تعالیٰ اس آیت میں کرتا ہے وہ بات یہ ہو کہ حضرت سلیمان نے جہازوں کے دو بیڑے بنائے تھے۔ایک خلیج فارس اور بحر ہند میں۔دوسرا بحر روم میں چلتا تھا۔اس امر کا ثبوت معتبر یہودی تاریخ سے سُن لیجئے۔سلاطین اول ۹ باب ۲۶- پھر سلیمان بادشاہ نے عصیون جبر میں جو ایلوت کے نزدیک ہے۔دریائے قلزم کے کنارے پر جو دوم کی سرزمین ہے۔جہازوں کے بحر بنائے اور حیرام نے اس بحر میں اپنے چا کہ ملاح جو سمندر کے حال سے آگاہ تھے سلیمان کے چاکروں کے ساتھ کر کے بھیجوائے اور دے او غیر کر گئے۔(اور دیکھو اخبار الایام ۲ باب ۲-۱۶) اختبار الا یام دوم ۲ باب ۱۹۔بادشاہ کے بہاز میرام کے نوکروں کے ساتھ پرمیس کو جاتے اور وہاں سے اُن پر تین برس میں ایک بار سونا اور روپا اور ہاتھی دانت اور بندر اور مور اُس کے لیے بھیجتے تھے۔چونکہ زمانہ سابق میں جہاز کا چلنا صرف ہوا کی موافقت اور سازگاری ہی پر موقوف تھا اور حضرت سلیمان کے جہاز توفیق الہی ہوا کی ساز گاری سے حسب المرام چلتے اور کام دیتے تھے۔بنا براں باری تعالیٰ اس جگہ امتنانا ریح پہنے ہوا کا ذکر کرتا ہے کہ ہم نے ہوا اسکے کام میں لگا دی۔اور اسلئے کہ ہوا ہی محرک اور منشائے جہاز رانی کی متم اعظم تھی۔