فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 196 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 196

194 زبر دست چیزیں جن پر تمہارے دست قدرت کو رسائی مکن نہ تھی مفت میں میں نے تمہارے کام میں لگادی ہیں۔اُس کے بعنے خدا کے ہمارے کام میں ان اشیاء کو لگا دینے یا ہما سے انکو کام میں لانے کے معنی ہیں کہ ہمارے تمام منافع اور مصالح کا مدار ان سہی اشیاء کے وجود پر ہو۔اور یہ سب تار و پود ہستی اور ہنگامہ با آب و تاب انہیں اشیاء کی مرد اور ذریعے سے نہھتا اور پیل رہا ہے۔جولوگ قانون قدرت میں غور و فکر کرتے ہیں وہ خوب سمجھتے ہیں کہ کس طرح پر ہم بعض قومی قدرت سے قدرتی طور پر اور بعض اشیاء کے خود استعمال صحیح سے متمتع ہو سکتے ہیں ہورہے ہیں۔اہلِ یورپ نے انہیں قولے قدرت کی طرف توجہ کرنے اور اُنکے استعمال صحیح (تسخیر سے مثلاً ایک سٹیم (بخار) ہی کی تسخیر اور کام میں لانے سے کیسے کیسے منافع ایک دربار کی اور اُٹھائے ہیں۔کیسے بیش بہا انجمن ایجاد کئے ہیں کہ تجارت اور تمول میں اہل عالم پر سبقت لے گئے۔یہی عمل تسخیر ہے جسے قادر مطلق رحیم خدا نے فطرتاً بتفاوت پر انسان میں ودیعت رکھا ہے۔مالا مال اور خوشحال وہ لوگ ہوئے جنہوں نے اس قدرتی عطیے اور فیض وہی سے کام لیا۔یہ وہ عمل تسخیر نہیں ہے جسے عوام کالا تمام ڈھونڈھتے پھرتے ہیں اور شب و روز فضول جہد و مجا ہارے میں سرگردان اور منہمک رہتے ہیں۔یا کوئی شخص کسی قسم کا کلمہ و کلام پڑھ کر سورج اور چاند کو مسخر کر سکتا ہے یا اُن کی معمولی قدرتی رفتار اور حرکات میں فرق ڈال سکتا ہے۔نہیں نہیں یہ وہی قدرتی تسخیر ہے جو پہلے بیان ہو چکی ہے۔اور اُسی ہی کو باری تعالیٰ امتنانا اور احساناً یاد دلاتا ہے۔سعدی نے اس موقع پر کیا خوب کہا ہے۔اور کیا خوب اس تسخیرو تسخیر کا مطلب حل کیا ہے۔گویا سات سو برس قبل عقلمند پادری صاب کے مجہول اعتراض کا جواب دیدیا ہے ہے ابرومه و خورشید و فلک در کارند تا تو نانے بلکن آرمی و بغطات نخوری همه از بهر تو گشته و فرمانبردار شرط انصاف نباشند که تو فرمان نبری