فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 198
۱۹۸ ہواہی کے ذکر پر اکتفا کیا اور کنایہ جہاز رانی مراد رکھی۔اس آیت کے آگے فرمایا ہے۔عُدُوهَا شَهرُ رَوَاحُهَا شهر سیپاره ۲۲- سوره سبا ، رکوع ۲ - - اس میں ان جہازوں کے سفر اور ملے مسافت کا بیان ہو کہ صبح و شام میں اتنی مسافت لے کر جاتے تھے۔جو اُس زمانے میں لحاظ سفر بتی کے ایک مہینے کی راہ ہوتی تھی۔بیشک اُس ابتدائی زمانے میں سفر یہ ہی کی دشواریوں اور صعوبتوں اور راہوں کے محفوظ و مامون نہ ہونے پر اگر نظر کی جاوے تو جہاز رانی جس کے ذریعے سے خشکی کی کوسوں کی راہ چند ہو الین گھنٹوں میں طے ہو جاتی تھی۔خدا کے فضل اور قدرت کی ایک عظیم الشان آیت (نشانی) تھی۔اور بنی اسرائیل کے لئے خصوصا جنہیں اوّل اوّل خدا نے یہ فن عطا کیا۔خدا کے احسانات کے تذکر کی بڑی بھاری نشانی تھی۔قرآن مجید کا یہ عجیب اور مخصوص طرز ہے کہ اس میں باری تعالیٰ انسان کو و منافع اور فوائد جو انسان قوی قدرت کے استعمال سے یا اللہ تعالیٰ کے محض فیض سے ان اشیاء سے حاصل کرتا ہے یاد دلا کر اور اپنا علتہ العلل ہونا اس کے ذہن نشین کرا کر اسکو اپنی طرف یلاتا ہو اور یہ مجیب طریقہ انسانی قوی پر تاثیر کرنیکا ہو جو حقیقہ قرآن کریم ہی سے مخصوص ہے اور اس بیان قوانین قدرت سے تمام قرآن لبریز ہو۔ایسا ہی اس آیت میں بھی اس عادت جاریہ کے موافق حضرت سلیمان پر انعام و فضل کا ذکر کیا ہے۔اس سے آگے والی آیت یہ ہے۔تَجْرِي بِاخرة إلى الأَرْضِ التي باركنا فيها- سیپاره - سوره انبياء- ركوع - - چھلتے تھے وہ جہاز اُسکے سلیمان حکم سو اس زمین کیطرت جسمیں ہم نے برکت دیں۔اس کا مطلب یہ ہو کہ وہ جہاز حضرت سلیمان کے حکم سے بلاد افریقہ یا ہند سے ہو کہ ارض شام کو آتے تھے۔اعتراض۔قرآن نے مریم مسیح علیہ السلام کی ماں کو اخت ہارون۔ہارون کی بہن کہا۔یہ بات صحیح نہیں۔جواب سننے۔نے صبح اُس کی ایک مہینے کی اور شام اس کی ایک مہینے کی ۱