فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 195
۱۹۵ لوب ر لكم الفلك لتجري فيالبي بِأَمْرِهِ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الأَنْهَارَد عمى لكرة الشمس والقمرة الباين وسَخَّرَ لَكُمُ الَّيلَ وَالنَّهار- سیپاره ۱۳- سورة ابراهيم- رکوع ۵ - ذلِكَ سَخَّرَهَا لكم سیپارہ ۱۷ سوره حج - رکوع ۵ - المران الله سخر لكُم مَّا فِي الْأَرْضِ وَالغُلكَ تَجْرِي فِي الْبَحْ بِأَمْرِه۔سیپاره ۱۷ - سوره حج - رکوع ۹ - الم تروا أن الله سخر لكم ما في السمواتِ وَمَا فِي الأَرض سيارة العمان كوح ٣- ان تمام محاورات سے لفظ تسخیر کا استعمال واضح ہوگیا کہ تسخیر مفت میں بلا مزدوری کام میں لگا دینے کو کہتے ہیں۔بیشک کشتیاں جہاز دریا سمندر سورج چاند ستارے رات تین چار پائے مویشی باریستان جل شانہ نے محض اپنے لطف و کرم سے مفت ہمارے کام میں لگا رکھے ہیں۔بایں معنی کہ ان کی خلقت اور فطرت ایسی بنائی ہے کہ بلا أبحرت ہمارے منافع اور مصالح دنیوی کے اتمام وانصرام میں لگے ہوئے ہیں۔بلکہ حقیقہ ہماری زندگی و معاش انہیں اشیاء اور قومی طبعی کے وجود پر موقوف ہے۔چونکہ ان بڑے بڑے قومی طبعی مثلاً سمندر ہوا سورج چاند ستارگان رات دن وغیرہ پر من حیث الخلق ہم قدرت نہیں رکھتے۔اور نہ جبر و قہر ان سے کام لے سکتے ہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ اپنا فضل و امتنان و احسان جتا کر ہم سے اس مہربانی کی شکر گذاری لینے کے لئے اُن اشیاء کا اور اُن سے ہمیں منافع پہنچنے کا ذکر فرماتا ہے کہ دیکھو ایسی ایسی بڑی لے اور کام میں لگادی تمہاے کشتی تو کہ چھے سمندرمیں اسکے حکم سے اور تمہارے کام میں لگا دیں ندیاں اور کام میں لگادیا تمہارے سورج اور چاند ایک دستور پر اور کام میں لگا دیا تمہارے رات اور دن کو ۱۲ ان اور ایسے ہی کام میں اگا دیا تمہارے اُونٹ کو ۱۳ لہ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے تمہارے بس میں کیا زمین والی چیز کو درشتیان در بائیں اسی کے حکم سے چلتی ہیں " کہ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے تمہارے اختیار میں کر دیا جو کچھ زمین اور آسمان میں ہے ۱۲