فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 194
۱۹۴ مخلوق ہیں۔نہ خالق کے جلانے کا۔اعتراض - سوره ص ۲۰ رکوع وسخر ناله الريح شوي بأمره رخاء حيث اصاب یہ امر غلط ہے۔اس کا ثبوت نہیں ملتا کسی معتبر یہودی مورخ کی گواہی سے ثابت کریں۔جواب۔افسوس ہم کہا نتک ہر ایک مضمون کے آغاز میں پادری صاحب کی نادانی اور لغت عرب سے جہل کی شکایت کرتے جائیں۔پادری صاحب نے اسے کونسا غیر ممکن الوقوع واقعہ اپنے زعم میں سمجھا ہو کہ بڑے جوش میں آکر مورخان یہود کی گواہی کے خواستگار ہیں۔صاحب یہ تو معمولی قدرتی اور مشہودہ واقعے کا ذکر ہے کہ شب و روز ہمارے تمہارے مشاہدے اور برتاؤ میں آرہا ہے۔آپ صرف جہل لسان کی وجہ سے اس ورطے میں پڑے ہاتھ پاؤں مارتے ہیں۔میں تمہیں تھی اور اخلاصا کہتا ہوں کہ کیوں ناحق اپنی عاقبت بگاڑتے ہو۔قرآن کریم جو اپنی ذات اور اصلیت میں صادق و مصدق کلام ہے۔ایسے واہی اور پا در ہوا اعتراضوں سے معرض نقص و قدح میں نہیں آسکتا۔لیجئے اصلی کیفیت ہم سنائے دیتے ہیں۔اور نہ یہودی مؤرخ کی بلکہ خود خدا کی شہادت یعنی اسکے کام کی شہادت سے اس کا ثبوت دیتے ہیں۔و ر تالة الريح تجري بأمرة محارٌ حَيْثُ أَصَابَ۔سیپاره -٣- سوره من ركوع - سر وأخيرًا، ذللها وَكَفَهُ عَمَلاً بلا أجره یعنی ستر ا سکے میرا کے معنی میں اسکا مطیع کیا تَسْخِيْرًا- - سَخَّرَة اور اُسے مفت ہے مزدوری کام میں لگایا۔قرآن میں بہت جگہ یہ محاورہ آیا ہے۔دیکھو۔ان پس صفت کا م میں انگار می سلیمان کے ہوا نرم چلتی اُس کے (اللہ کے حکم سے جہاں پہنچنا چاہتا۔با مرہ کی ضمیر سب آیات ذیل باری تعالیٰ کی طرف سے ہو۔