فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 173 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 173

۱۷۳ اور زمین بند ہوتے ہیں ریعنے خشک سالی واقع ہوتی ہے، پھر ہم انہیں کھو دیتے ہیں (یعنی مینہ برستا ہو اور ہر جاندار چیز کو پانی سے بناتے ہیں۔یعنی آسمان سے مینہ برستا زمین سے نباتات نکلتے ہیں۔سمان ہوتا ہے۔ارزانی ہوتی ہے۔اگر کوئی شخص سماوات پر جو سما کی جمع ہو اعتراض کرے تو اُسے ایوب ۳۸ باب ۳۷ پڑھنا چاہیئے۔جہاں لکھا ہو کون اپنی دانش سے بادلوں کو گن سکتا ہوں یہ عربی او میری بائیں دونوں قریب قریب ہیں۔یہی محاورہ کتب مقدسہ میں موجود ہے۔دیکھو پیدائش ، باب 1- 1- آسمان کی کھڑکیاں کھل گئیں۔چالیس دن اور رات پانی کی جھڑی لگی رہی۔پیدائش ، باب ۲- آسمان کی کھڑکیاں بند ہوئیں اور آسمان سے مینہ تھم گیا۔اول سلاطین ، باب -۳۵ پھر جب آسمان بند ہو جائیں اور بارش نہ ہو۔تجھے اباب ۱۰ - آسمان بند ہے اوس نہیں کرتی۔-۲- تاریخ ۶ باب ۲۶- اگر آسمان بند ہو جاویں۔اور نہ برسیں۔-۲- تاریخ ، باب ۱۳۔جو میں آسمان کو بند کروں کہ بارش نہ ہو۔لو قام باب ۲۵۔ساڑھے تین برس آسمان بند رہا۔زمین حاصل دینے سے باز آئی اور میں نے خشک سالی کو طلب کیا۔اعتراض - (1) سورۃ ہود و رکوع - مومن بہشت میں رہیں گے جبتک آسمان 3 زمین قائم ہیں اور کافر دوزخ میں رہیں گے جبتک آسمان و ز میں قائم ہیں (ب) سورہ الحاقہ ۱۴ سے ۱۶ تک۔جب صور پھونکا گیا آسمان پھٹ جائیگا اور زمین اُلٹائی جائیگی (ج) سُورۃ) الرحمن مارکوع سب کچھ فنا ہو جا دیگا۔لیکن صرف منہ خدا کا باقی رہیگا سورہ الحاقہ اور الرحمن سے ظاہر ہے کہ نہ آسمان و زمین رہیں گے۔اور نہ مومن بہشت میں نہ دوزخی دوزخ ہیں۔کیونکہ سب کچھ فنا ہو جائے گا۔تو یہ بھی سب کچھ کے احاطے سے باہر