فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 174 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 174

۱۷۴ نہیں۔اس لئے یہ کذب ہے۔جواب پس کیا ہی برا بول بولا۔اور کیسا غلط الہاما در جھوٹی روح سے کہا اور یہ کہ اسے خدا وند تو نے ابتداء میں زمین کی نیوڈالی اور آسمان تیرے ہاتھ کی کاریگر می ہو۔وئے نیست ہو جائینگے پر تو باقی ہے۔وے سب پوشاک کے مانند گیرانے ہونگے اور چادر کی طرح تو انہیں لپٹیگا اور وے بدل جا وینگے پر تو ہی ہے اور تیرے برس جاتے نہ رہیں گے۔(نامہ عبرانیاں - باب ۱۱-۱۳) کیا پطرس تجھوٹ کہتا ہو کہ خداوند کا دن جس طرح رات کو چھور آتا ہے آونگا اور اسی میں آسمان سنانے کی طرح جاتے رہیں گے۔اور اجرام فلکی مبل کر گداز ہو جائیں گے۔اور زمین ان کاریگروں سمیت ہو اس میں میں بھسم ہو جائیگی۔ناظرین غور کرو۔پطرس فرماتا ہو کہ اجرام فلکی اور زمین مع اپنی کاریگروں کے فنا ہو جاوے گی۔ہم پوچھتے ہیں کہ جب یہ سب کچھ فنا ہو جا دینگے۔تو میر سے کس کی عدالت کو آوینگے اور عیسائیوں کو ابدی آرام کیسے ملیں گا۔سچ پوچھو تو اس یا جوجی قومہ کو اعتراض کرنے اور عجیب بینی کے سوا اور کچھ نہیں سوجھتا۔حقیقت شناسی اور صداقت طلبی سے تو کچھ سروکار نہیں۔کاش قرآن پر اعتراض کرنے سے پہلے کتب اناجیل کو بغور ملاحظہ کر لیا کریں۔کہ ان کتابوں کا طرز ادائے مطلب کس قدر آپس میں ملتا جلتا ہے۔چونکہ عبرانی اور عربی زبان کے محاورات نہایت ہی مشاہدا یک دو سکر سے ہیں۔رسے اس لئے قرآن کے مجازات اور استعارات میں خوض کرنے سے قبل توریت کے طریق ادائے الك يوم تعلوى السماة كل المنتجاب الكتب كما بدا أنا أَوَّلَ خَلْقٍ تَعِيدُ 6 ترجمہ جہاں سیٹیں گے آسان کو مانت پیٹنے کا غذ کتاب کے جیسے ہم نے پہلے پیدائش کو شروع کیا۔ہم دو ہرا دینگے اس کو ؟ لا