فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 172
۱۷۲ نہیں کرتے۔لفظ دیکھا اسے تعبیر کئے جاتے ہیں اور یہ محاورہ ہر زبان کی عام بول چال میں پایا جاتا ہے۔مثلاً کہتے ہیں۔دیکھو مصر میں انگریز کیا کارروائی کر رہے ہیں۔دیکھ آئر لینڈ کے کیسا۔لوگ کیس ما فساد مچارہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔اب یہ فقرات ہند دستان میں بیٹھا ہوا ایک شخص کہہ رہا ہے۔اس سے بی مقصود نہیں کہ اس کے اس کلام کے مخاطبین ان آنکھوں سے مصر اور آئرلینڈ میں موجود ہو کر وہ کارروائی اور فساد دیکھ رہے ہیں۔حقیقی جواب۔لغت میں رویت اور راسی کے معنی میں سے ہر کمی کا لفظ مشتق ہوا ہے غور کے قابل ہیں۔دیکھو قاموس اللغت الرُّؤْيَةُ النَّظَرُ بِالْعَيْنِ والقلب والرأى الاعتقاد۔یعنی رویت آنکھ سے دیکھنے اور دل سے دیکھنے اور رای اعتقاد کرنے کو کہتے ہیں۔معترض نے زبان کی ناواقفیت کے سبب سے رویت کو آنکھ کے ساتھ دیکھنے ہیں پر حصہ بجھا ہو۔پس آیت کے معنی یہ ہوئے ! کیا کفار نے نہیں سمجھا کہ آسمان اور زمین ملے ہوئے تھے۔پس ہم نے اُن کو جدا کیا۔اصلی حقیقی جواب۔آیت یہ ہے :- اولمير الذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمواتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَهُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاء كُل شَي حي سيپاره -۱۰ سوره انبياء - رکوع سماوات جمع ہے سما کی اور اس کے معنی ہیں اوپر کی چیز۔اور بادل کو بھی کہتے ہیں۔رتن کے معنی ہیں جوڑنا۔بند کرنا۔قحط خشک سالی۔فتق ضد ہے رتق کی اسکے معنی ہیں پھاڑنا کھولنا۔سمان جیسے ارزانی کہتے ہیں۔دیکھو قاموس السَّماءُ كُلَّ مَا ارتفع إلى أن قَالَ وَالسَّحَابُ - الفتق الشق - فتقه شقه - والخصب والرتق ضده - پس ٹھیک ترجمہ آیت کا یہ ہوا۔کیا وہ نہیں رکھتے نہیں سوچتے کہ اوپر کی سطح (بادل) لے کیا نہیں دیکھا انہوں نے کہ بیشک آسمان اور زمین دونوں اور انہیں کیا اور تم زندہ کیا ہر چیز کو پانی سے"۔