فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 171 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 171

161 كَذلِكَ رِدْنَا لِيُوسُفَ - سیپاره ۱۳ - سورۂ یوسف - رکوع و یعنی ایسا ہی ہم نے یوسف کیلئے ارادہ کیا اور عریکا محاورہ ہوا افعَلُ وَلَام كَادُ۔نہیں کرتا ہوں اور نہ میرا ارادہ ہے۔پس الاد أخف برما کا ترجمہ ہوا میں ارادہ کرتا ہوں اسے ظاہر کروں۔اعتراض - سور که انبیاء ۴ رکوع ۳۰۔کیا نہیں دیکھا اُنہوں نے جو کافر ہوئے یہ کہ آسمان اور زمین تھے ملے ہوئے ہیں جدا کیا ہم نے ان دونوں کو یہ سب پر روشن ہے کہ کافر آسمان اور زمین کی جدائی سے پیچھے پیدا ہوئے۔انہوں نے اپنی پیدائش سے پہلے خدا کو یہ کام کرتے ہوئے کیسے دیکھ لیا۔الزامی جواب۔پس کیا متی ۳ باب ۱۶ جھوٹ کہتا ہو یسوع بپتسما پا کے فوراً پانی سے نکل کے اوپر آیا اور دیکھو اسکے لئے آسمان کھل گیا۔اور کیا تو اریوں کے اعمال ے باب (۵۶) میں کذب ہوتا ہے۔دیکھو آسمان کھلا اور ابن آدمہ کو خدا کے داہنے ہاتھ کھڑے دیکھتا ہوں اب غور کرنا چاہیے کہ منی اور اعمال میں جن لوگوں کو کہا دیکھو کیا وہ دیکھتے اور دیکھ سکتے تھے یا اب بھی ان آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں۔ہر گز نہیں۔خدا ان لوگوں کی چشم دانش کو کھولے اور انہیں راہ حق دکھلائے عجیب عجیب اعتراض کرتے ہیں جن کا منشا جہل اور نادانی کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتا۔قرآن میں بیسیوں جگہ یہ لفظ موجود ہے۔الم ترَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاصْحَابِ الْفِيلِ - سیپاره ۳۰ سُوره فیل ركوع۔الم تركينَ فَعَل ربك بعاد - سیپاره ۳۰ - سوره فجر - رکوع - وغیره و خبره حال آنکہ اصحاب فیل اور عاد کا واقعہ ولادت آنحضرت سے پیشتر واقع ہو چکا ہو ایسے موقعوں میں لفظ دیکھایہ منی نہیں رکھتا کہ موجود و حاضر در این چشم سر دیکھا بلکہ وہ واقعات بوستم اور ستند اول لا ریب چلے آتے ہیں اور جنگی صداقت کو اخلاف واقعہ چشم دید سے کچھ کم اعتقاد لے کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے خدا نے اصحاب فیل کے ساتھ کس طرح کیا۔سا کیا تو نے نہیں دیکھا کہ عاد کے ساتھ تمہارے غدرا نے کیسا کیا۔