فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 170 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 170

اعتراض - اِنَّ السَّاعَةُ أُتِيَة أَكَادُ أَخْفِيهَا " تحقیق قیامت آنیوالی ہے۔قریب ہے۔میں اُسے چھپاؤں یہ یہ غلط ہے کیونکہ چھپانا اس کا ہوتا ہے جو ظاہر ہو۔قیامت ظاہر ہی نہیں۔اُس کا چھپا نا کیسا۔جواب معترض کا ترجمہ غلط ہے۔اور اس آیت کا اخیر جملہ شد ہ ہی اُس کی غلطی کو ظاہر کئے دیتا ہے۔پوری آیت یہ ہے۔اِنَّ السَّاعَةَ اتِيةَ أَكَادُ أَخْفِيهَا لِتُجْزِى كُلُّ نَفْسٍ بِمَا تسعى۔سیپاره ۱۶ سورة طه رکوع اول - تحقیق وہ گھڑی آنے والی ہو۔قریب ہے میں اُسے ظاہر کر دوں۔تو کہ ہر جی اپنے کیئے کا بدلا پائے۔یہ معنی بالکل صاف اور صیح ہیں۔ان میں کشتی مہم کا خفا نہیں ہے۔اور نہ ان کا کا معنوں پہ کچھ اعتراض ہو سکتا ہے۔اگر کوئی کہے خفیہ ہا کا مادہ سے خفی اسکے معنی ظاہر کروں کیسے ہوئے۔تو اسے زبان حرب میں غور کرنا چاہئیے۔حقیقت یہ ہے کہ خفی کا لفظ متضاد معانی رکھتا ہے۔اب حقی بمعنی ظاہر ہوا کا محاوره سُنو - خَفِى الْبَرْقُ خَفُوا وَخَفَوًا أَلَى لَمَعَ یعنی نی البرق کے معنی ہیں بجلی کی خفِ الشَّيْءُ آن هم یعنی چیز ظاہر ہوئی خَفِي المَطَرُ ای ظهر النافق یعنی مینہ نے چوہے کے چھپے بل کو ظاہر کر دیا۔اگر خفی بمعنی چھپا کے لیں تو بھی و ہی ترجمہ جوئیں نے کیا ہے صحیح ہے۔کیونکہ مخفی مزید یہ مجرد مادہ خفی کا ہے۔اور اخفی افعال کا باب ہے جو کبھی کلب کے معنی دیتا ہے۔یعنی بادۂ مجرد کے معنی کو دور کر دینا۔دیکھو - آشگیت میں نے شکوہ دُور کیا۔اسکلت میں نے مشکل کو دُور کیا۔طاق يطيق مجرد بمعنی برداشت کرتا ہو اور اطاق يُطِيقُ مزيداً المعنی برداشت نہیں۔کرتا۔اسی طرح خَفی کے معنی ہیں چُھپا - اخفی ماضی کے معنی ہیں ظاہر کیا۔اور أُخْفى مضارع کے معنی ہیں ظاہر کرونگا۔ایک اور دلیل جو نہایت صفائی سے اس ترجمے کی صحت پر دلالت کرتی ہو یہ ہو۔اکواد کے معنی ہیں " میں ارادہ کرتا ہوں۔قرآن میں دوسری جگہ بھی یہ محاورہ موجود ہے۔