فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 140 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 140

۱۴۰ اور بہت اشعار میں لوگوں کو نبی عرب کے مار ڈالنے کی ترغیب دی۔اسواسطے وہ مارا گیا۔کچھ عداوت سابقہ اور کچھ اس ابو عفک کا مارا جانا یہود کی خطرناک کارروائیوں کا باعث ہوا۔یہودان بنی قینقاع صنعت اور حرفت والی قوم تھے۔مگر اسکندر کے یہودیوں کی طرح شریہ و غدار۔فائق : فاجر تھے۔ایک روز ایک نوجوان مسلمان لڑکی اُنکے بازارمیں گئی اور بضرورت اپنے کاروبار کے ایک یہودی لوہار کی دکان پر پہنچیں۔نوجوانان بیہود نے حرمت نسوان اور مہمان نوازی کے اصول کو بالائے طاق رکھ اُس نوجوان عورت کی ہتک حرمت اور آبروریزی چاہی۔وہاں ایک مسلمان را بگیر اس خورمت کا شریک ہو گیا اور خوب مار پیٹ ہوئی۔ہو یہودی شرارت کا بانی تھا مارا گیا۔تب یہودیوں نے جمع ہو کر اس مسلمان کو قتل کر ڈالا اور فتنہ عظیم برپا ہوا۔ادھر مسلمان جوش میں آگئے اور ہتھیار لے یہودیوں پر جا پڑے۔اور طرفین میں لوگ مارے گئے۔جونہی مصلح عالم صلی ! جونہی صلح عالم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچے فساد و فر کیا۔مسلمانوں کا کو طیش کم ہوا۔اس عاقبت اندیش اور دور بین مصلح نے دیکھا۔غور کیا کہ اگر یہی حالت مدینے کی رہی تو انجام اچھا نہ ہو گا۔مدینہ باہمی فسادوں کا جنگ گاہ ہی نہ رہیگا۔بلکہ مخالف فرقوں کے لئے بے تردّد حملہ آوری کا باعث ہوگا۔یہود خلاف عہد کر ہی چکے تھے۔آنحض سیستم فورا یہود کے محلے میں جا پہنچے اور یہ حکم قرآنی اُترا۔وا ما تخافن مِن قَوْمٍ خِيانة فالبد اليهمُ عَلَى سَوَاءٍ إِنَّ الله لا يُحِبُّ الخاينين - سوری انفال - سیپاره ۱۰ - رکوع ۳ - صلعم اور اسی واسطے آپنے خود تشریف لیجا کر یہود سے فرمایا۔یا تو مسلمان ہو جاؤ۔یا یہاں سے چلدو - یہود نے بڑی سختی سے جواب دیا کہ قریش کو شکست دیگر ر بدر میں نازاں نہ ہو ( وہ فنون جنگ سے ناواقف ہیں۔اگر ہم سے لڑا تو دیکھے گا۔لڑنے والے ایسے ہوتے ہیں۔یہ اوراگر و و و و و و یک قوم کی دوا کا تو جواب دے گی کو بارہ کے بابر ان کو خوش نہیں آتے دفا باز - له ابن ہشام ۱۲ -