فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 141 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 141

۱۴۱ ایک قلعہ بند ہو گئے اور آنحضرت کی حکومت سے با ہمہ عہد سرکش بن گئے۔اس شریہ قوم کافتند فرد کرنا نہایت ضروری تھا۔بنا براں اُن کا محاصرہ کیا گیا۔پندرہ روز کے بعد قلعہ بند لوگ گھبرا گئے۔اور یہ کہکر اتر آئے محمد صلعم جو ہماری نسبت فیصلہ فرمائیں وہ فیصلہ ہمیں منظور ہے۔آپنے پہلے سخت سزا تجویز فرمائی۔مگر آپکے جیلی رحم طبعی خلق آن کے سزا دینے پر غالب آگیا۔اور عبداللہ بن اُبی نے بھی سفارش کی۔اسلئے بنو قینقاع صرف جلا وطن کئے گئے۔یہود کے ساتھ دوسری لڑائی کا نام غزوۂ بنو تفسیر ہے۔کعب بن اشرف یہود میں ہاں بنو نضیر میں کا سردار تھا اور بڑا شاعر۔برخلاف عہد نامہ بدر کی لڑائی کے بعد قریش مکہ کے پا پہنچا اور انکو برایش دلایا۔اور وعدہ کیا کہ ہم تم کو لینے میں امداد دینگے تم اسلام پر حملہ کرو۔اور اپنی جادو انگیز تقریر سے قریش کو انتقام پر آمادہ کیا۔آخر قریش کعب بن اشرف کی اثر بھری تقریروں سے مدینے پر حملہ آور ہوئے۔مدینے ہو تین میل کے فاصلے پر جبل احد کے پاس لڑائی ہوئی اور نیز کعب بن اشرف نے رسول خدا کے قتل پر منصوبہ باندھا۔مگر قدرت الہی سے وہ راز کھل گیا۔اور یہ کعب بن اشرف اپنی ایسی ایسی حرکتوں سے مارا گیا۔بنو نفیر کے دلوں میں اُسکے قتل کا رنج پیدا ہوا۔اور اسپر یہ طرہ ہوا کہ ابو براء نام عامری آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہوا۔اور دم دلا سا دیکر اپنے ہمراہ رسول خدا کے ستر حواری جو قرآن کے قاری تھے۔اس عہد پر ساتھ لے گیا کہ انکو ہر طرح امداد دیجائے گی۔جب اپنے ملک میں پہنچا اور صحابہ کرام نے آنحضرت کا خط عامر عامری اہل نجد کے رئیس کے پاس پہنچایا۔تو عامر نے ایلچی کو مار ڈالا۔اور عصیبہ اور تکل قبیلوں کے لوگوں کو اپنا محمد بناکر ا ستر قاریوں محمد رسول اللہ صلعم کے اصحابوں پر آپڑا۔اور ان مسلمانوں کو مار ڈالا۔صرف دو آدمی بچ گئے۔ایک تو زخمی تھا اور دوسرا قید کیا گیا۔اس مقید کا نام عمرو ابن امیہ تھا۔اور اسلئے کہ مصری قوم کا تھا۔اسکو عامر ابن طفیل نے اپنی ماں کے کسی کفارے میں آزاد کر دیا۔یہ قیدی عمرو بن امیہ آزاد ہو کر "