فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 139 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 139

۱۳۹ اور باتوں باتوں میں بعاث کی لڑائی کا قصہ چھیڑ دے اور وہ اشعار پڑھ منا جو اسوقت پڑھے گئی تھے۔غرض اُس بد ذات نے وہی کر توت شروع کی۔آخر وہ نئے نئے اپنی قدیمی حال پر آگئے۔اور با ہم کہنے لگے۔آؤ اس معاملے کو نیا کر دکھلائیں۔خلاصہ کلام سترہ نامہ جگہ مقام جنگ تجویز ہوا۔اور ہتھیار لینے کو وہاں سے چل دیئے۔مصلح عالم خیر خواہ بنی آدم کو خبر ہوگئی۔آپ جھٹ پہنچ گئے۔اور فرمایا اے مسلمانوں الله الله ابدعوى الجاهلية وانا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ بَعْدَ أَن هَدْ كُمُ اللهُ الْجَاهِلِيَّةِ وَأَنَا لِلْإِسْلَامِ وَ اَكْرَمَكُمْ بِهِ وَقَطَعَ بِهِ عَنْكُمْ أَمْرَ الْجَاهِلِيَّة وَاسْتَنْقَذَكُمْ بِه مِنَ الْكَفِّ وَأَلَّفَ بِهِ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ غرض یہ آرام بخش اور حیات افزا بات سُن کر رو پڑے اور باہم گلے ملے اور آپ کے ساتھ شہر میں چلے آئے۔اُس وقت یہ آیت اتری۔يا هل الكِتابِ لِمَ تَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ مَنْ أَمَنَ تَبعُونَهَا عِوَجًا اور انصار اہل اسلام کو قرآن نے بتایا۔ا أيها الذين امنوا إِن تُطِيعُوا في بيقا مِنَ الَّذِينَ أوتُوا الْكِتَبَ يُردوكم بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ كَافرين - سیپاره -۴- سورة آل عمران - رکوع ۱ - بدر کی لڑائی میں چونکہ مسلمانوں کی فتح پر ایک طرف قریش مکہ آگ بگولا ہو گئے تھے۔اور ایک طرف اُن یہود کو غضب آیا اور ابو خنک نام یہودی نے آپکے مار ڈالنے پر کوشش کی ے باہم اوس اور خر رج کی ایک سخت جنگ ہوئی تھی اور ایں اتاری اور کاہاتھ رہا تھا لہ الا للہ یہ جہال کے دعوے او میں تمہارے درمیان ہوں سکے پیچھے کہ تم کواللہ تعالیٰ نے اسلام کیطرف ہدایت کی اور کایات کو بخشی اورجہالت کی باتی م س کا میں اور سلام کیا تم کو کون سے نکلا اور تم کو باہمی الفت میں سے اسے کتاب والو! کیوں روکتے ہو خدا کی راہ سے ایمان والے کو۔چاہتے ہو اس میں ٹیڑھا پن " جھے اسے ایمان او اگر تم اطاعت کرو گے ایک گروہ کی اپنی کتاب کے پیر نے وہ لوگ تم کو بعد تمہارے ایمان کے کافر