فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 124
۱۲۴ 4۔عروج چھوڑ دیا اور فرمایا میں رحم کرنے کے لئے آیا ہوں قتل کر نیکے لئے نہیں۔اس فوق العادة رحم کو دیکھ اور اپنی عداوت کو سوچکر وہ مسلمان ہو گیا۔اور اپنی قوم کو بھی دعوت اسلام کر کے راہ حق پر لے آیا۔اسی غطفانی جملے میں بقول واقدی و ابن سعید یہ آیت اتری۔ياتها الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا نِعْمَتَ اللهِ عَلَيْكُمْ اِذْ هَمَّ قَوْم أَن يَبْسُطُوا الَيْكُمُ ايْدِيَهُمْ فَكَتَ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ - سوره مائده سیپاره ۶ رکوع ۲ - بے شک آنحضرت صلعم کی ذات مبارک کی سلامتی ایسے موقعہ میں محض اُسکے کی میں فضل و کرم سے ہوئی۔غزوة السويق - جب بد میں اسلام کی فتح اور کفار کی شکست ہوئی اور سکتے کے بڑے بڑے اسلام کے دشمن مارے گئے۔ابوسفیان نے قسم کھائی اور نذر مانی کہ جنگ محمد سے نہ لڑوں جنابت کا غسل نہ کرونگا۔پھر دو سو سوار لیکر مدینے کو پھلا اور راہ میں مدینے سے ایک منزل پر خیمہ زن ہوا۔اور رات کو کر سلیم می شکم یہودی کے یہاں دعوت اڑائی۔اُس غدار یہودی نے مسلمانوں کے حال کی مخبری اسکے پاس کی۔ابوسفیان نے اپنے ڈیرے پر آکر چند سپاہی بھیجے۔انہوں نے مدینے کی کھجوروں کو آگ لگادی اور دو آمیوں کو مارڈالا اور کتے کی راہ لی مسلمانوں نے قرقرة الدہر مقام تک تعاقب کیا۔ابو سفیانی لشکر اپنے کھانے کے ستو چھوڑ سکے کو چلتے ہوئے۔اسلئے اس غزوے کو غزوۃ السویت یعنے سنوٹوں والی جنگ بولتے ہیں۔تنبی۔اس حملے کو یاد رکھو کیسا ہے وجہ ہوا۔اور یہودیوں نے کیسی دعا کی۔غزوہ اُحد راصد ایک پہاڑ ہے دینے سے ڈھائی میل کے فاصلے پر) دشمن کے سے چکر مدینے پہنچے۔وہ لڑائی کا سامان جو ابو سفیان شام سے لایا تھا۔اور جس کی لہ اے ایمان والو اللہ کی نعمت و جو تم پر ہے یاد کرو۔جب ایک قوم نے تم پر دست درازی کرنی چاہی۔پھر اُن کے ہاتھوں کو تم سے ہٹا رکھا ہوا۔