فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 125 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 125

۱۲۵ پیشبندی اور دفع دخل کیلئے آنحضرت کو بدر تک سفر کرنا پڑا تھا۔اور جس میں کفر کی شوکت ٹوٹ گئی تھی۔اب وہی سامان مسلمانوں کے مقابلے کے لئے جمع کیا گیا۔قرآن آیت ذیل میں اُسے اور اس کے خرچ کرنے والے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ان الَّذِينَ كَفَرَ وَ انْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ لِيَصُدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللهِ فَسَيُنفِقُونَهَا ثُمَّ تَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً - اس جنگ میں قریش کے ساتھ قبیلہ بنی تہامہ اور بنی کنانہ بھی شریک ہو گئے تھے۔کفار کی فوج کی تعداد میں ہزار تک پہنچ گئی اور سب فوج مسلح سات سو اُن میں زرہ پوش سوار تھے۔اور سرکے سب کئے ہوئے تھے کہ جلد مسلمانوں سے انتقام لیں۔اس چھوٹے چھوٹے قبائل کی مکمل پر غیط فوج نے بسرداری ابوسفیان مدینے کے شمال مشرق میں ایک مختص مقام میں اپنا مورچه خوب مضبوط کر لیا۔اوراس میں اور شہر مدینے میں حد فاصل صرت کوہ احد کی کھائی گئی۔اس مقام پر مورچہ باندھ کر کفار نے اہل مدینہ کے کھیتوں اور باغوں کو تباہ کرنا شروع کیا۔سپر صحابہ کو نہایت غصہ آیا اور میت اسلام محرک انتظام ہوئی۔آنحضرت سے بکمال اصرار دفاع کی درخواست کی۔آپ ہزار آدمیوں کو ساتھ لیکر مقابلے کو مدینے سے باہر نکلے۔عبداللہ بن ابی ایک سردار جو مدینے میں رہتا تھا اور جو بظاہر مسلمانوں کے ساتھ تھا۔اب عین معرکہ جنگ اور اس آڑے وقت میں اپنے تین سو آدمیوں سمیت مسلمانوں سے الگ ہو گیا جب سے مسلمانوں کی جمعیت ہزار سے اب سات سو رہگئی۔اس قلیل جمعیت میں کل دو گھوڑے تھے۔گر مجاہدین قدم ہمت برابر آگے بڑہائے پہلے جاتے تھے۔اور نخلہائے خرما میں سے گذرکر کوہ احد پر پہنچ گئے۔لشکر اسلام رات بھر اس پہاڑ کی کھو میں پڑا رہا۔صبح نماز فجر پڑھ کر میدان میں آجا۔آنحضرت نے کوہ احمد کے نیچے نیچے فوج کی صف کو آراستہ کیا۔اور عبداللہ بن جبیر کو چند آدمیوں سمیت عقب لشکر ایک ٹیلے پر متعین کر کے قطعی حکم دیا کہ جو ہو سو ہو۔خبر دار وہاں سے سے یقین ہو لوگ کافر ہیں۔اپنے مالوں کو فریج کرتے ہیں اسواسطے کہ اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکیں۔سو ابھی اور خرچ کریں گے۔پھر وہی مال اُن پر حسرت بنجائے گا۔۱۲