فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 123
١٢٣ غزوة الكدر ر ایک چشمے کا نام ہے اور اُسے ذوقر قرہ بھی کہتے ہیں یہ جملہ غزوہ سلیم اور خلطفا قبیلوں پر کیا گیا گر لڑائی نہ ہوئی۔یہ جملہ اول کی پہلی تاریخ بند کی لڑائی خطای او او او او ایل بدر کی لڑائی کے سات روزہ بعد ہوا۔اش غزوة الانمار۔یہ غزوہ بھی غطفان سے ہوا۔اس غزوے کو غزوہ انہار اور غزوہ غزوہ ذی امر بھی کہتے ہیں۔یہ حملہ نجد کی طرف ہوا۔اس میں بھی لڑائی نہ ہوئی۔غزوہ نجران - اور اسے غزوہ بنی سلیم بھی کہتے ہیں۔اسمیں بھی لڑائی نہوئی۔غزوہ بنو سلیم اور غطفان اسلام کے سخت دشمن تھے۔انکی عداوت کا تھوڑا سا حال سُن لو۔بنو ثعلبہ بن سعد بن قیس بن خلفان مدینے پر شب خون مارنے کو تجمع ہوئے۔دعشور نام ایک شخص اُن کا سرغنہ بنا۔اس دکتور کو عورتوں نے غورت اور اورک بھی لکھا ہے۔ایسے ہی بنی سلیم بھی اکٹھا ہوئے۔آنحضرت اس اجتماع کی خبر شنکر از راه خود حفاظتی و احتیاط و عاقبت اندیشی وہاں پہنچے۔مگر وہ لوگ متفرق ہو گئے۔اس لئے آپ نے مگروہ تعاقب نہ فرمایا۔غطفانیوں کے حملے میں ایک عجیب قصہ یاد رکھنے کے قابل ہے۔وہ یہ کہ اس غزوے میں مینہ برسا۔آنحضرت صلعم کے کپڑے بھیگ گئے تھے۔آپنے اوتار کر ایک درخت پر سکھلانے کولٹکا دیئے۔اور آپ اُس درخت کے سائے میں لیٹ گئے۔دعشور نے دیکھا۔آپ تنہا ہیں۔نادان بہادری کے گھمنڈ میں تلوار کھینچے ہوئے سر پر آپہنچا اور پکار کر کہا۔مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِى اليوم - آج کون تجھے مجھ سے بچا سکتا ہو۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا۔اللہ اسپر الہی قدرت نے ایسا دھنگا دیا۔کہ رعب زدہ ہو کر گر پڑا۔اور تلوار اُس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی۔آنحضرت نے ویسے ہی اُسکی تلوارا اپنے ہاتھ میں لیکر للکارا کہ اب تو بتا تجھے کون بچا سکتا ہے۔اُس نے کہا کوئی نہیں۔آپ نے اُسے ا مجلد ۲ صفحه ۱۷- مواهب و زرقانی ۱۲ وجوہ ہر سہ غره دات