فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 110
11- اور سنیئے۔منی ، باب ۳۲ - سوروں کے غول کو مسیح نے ملاک کیا۔یا درمی کلارک اور پادری لاہنر صاحب کہتے ہیں کہ وہ سٹار تعداد میں دو ہزار تھے۔اور وہ اسلئے ہلاک ہوئے کہ آدمی کی جہان کا نقصان کرتے تھے۔اور اسلئے بھی کہ ملک والوں کو معلوم ہو۔کہ مسیح کون ہیں۔اور اسلئے بھی کہ ایک کی نجات دو ہزار سور کی ہلاکت سے بہتر ہے اور اسلئے کہ مخالف شریعت یہودیوں کا مال تھا۔یا ایسی غیر قوم کا مال تھا۔جو شریعت کی بے عزتی کرنے والی تھی۔اور دونوں صورتوں میں ان سوروں کی ہلاکت جائز تھی۔اب اس تفسیر پر اور انپر گہری نگاہ کر کے دیکھو۔اور سوچو کہ سٹوروں کا ہلاک کرنا جائز ہے۔منتی ، باب 4 جو پاک ہے کتوں کو مت دو۔اور اپنے موتی سوروں کے آگر نت پھینکو۔اس سے معلوم ہوا کہ بعض آدمی بھی سور ہیں۔اب غور کرنا چاہیئے کہ سوروں کا بلاک کرنا سیح سے ثابت ہے اور بعض آدمیوں کا موڑ اور کہتا ہونا مسح کے کلام سے ثابت نہیں آدمیوں سے جو سور اور کتے ہوں۔اجتناب کرنا اور انہیں قتل کرنا کیسے ممنوع ہوگا۔پادری صاحبان ! اگر چه هم اتنا قبول کرنا گوارا کرلیں کہ بیٹا باپ سے جو طوفانوں اور وباؤں سے لوگوں کو ہلاک کرتا ہو کسی قدر زیادہ رحیم ہے۔مگر کیا کریں خود انجیل اور اس کا آدمیوں کو سٹور اور کتے کہنا اور انکو ہلاک کرنا ثابت ہوا جاتا ہے۔ہاں انجیل تو میں لفظ سور کے استعارے کے تعلیے میں قتل ابن آدم کو چھپایا چاہتے ہیں۔بیشک بیٹے میں اتنی بات ضرور ہو کہ ایک زمانے تک وہ اپنے ضعف و ناتوانی اور قلت انصار و اعوان کے سب سے پٹتا رہا ور طا ہر کھاتا رہا۔الا جب فرشتوں کے لشکر کے ساتھ آیا تب اُس کا رحم و فضل اور نمود کی مسکینی سب غائب ہوگئی۔اور لگا دھڑا دھڑ منکروں اور تھوکنے والوں سے بدلے لینے۔سچ ہے کمزوری کھلے جہاد کا فتویٰ کا ہیکو دینے دیتی کہ منگران کلام حق سے علانیہ موسیٰ کی طرح انتقام لیتے۔موہومی دھمکیوں (جب میں آؤنگا، اور گھاس کے مٹھوں سے ڈرانے میں تو کچھ کو تا ہی نہیں کی۔مگر حضور کی ان سرسوں بھری توپوں سے