فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 109 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 109

1-9 غزوات مسیحیہ متی ۲۴ باب ۳۰۔حضرت شیخ فرماتے ہیں۔جب میں آؤنگا دنیا کی ساری قومیں چھاتی پیٹیں گی۔متی ۱۶ باب ۲۷ - کیونکہ ابن آدم اپنے باپ کے جلال میں اپنے فرشتوں کیسا تھا آئیگا۔تب ہر ایک کو اُسکے کام کے موافق سزا دیگا۔بعضنے ابھی موت کا مزہ نہ چکھینگے۔سبحان الله خاکسار علیم بر کیسے تزک و احتشام سے تشریف لاتا ہو۔اور کیسے جنگ جو مزاج سے۔اگر انجیل اور پیروان انجیل کے عقائد پر نظر کی جائے تو مسئلہ جہاد کا اور مخالفوں سے جنگ کرنے کا عجیب طریقہ پریل سکتا ہے۔عیسائی علما آیت مذکور الصدر کی بہ تاویل کرتے ہیں کہ مسیح کا آنا ہی لطیس رومی کا آنا ہے جس نے خطرناک خونریز کی یروشلم میں کی۔اور جس یروشلم میں سیخ نے کسی زمانے میں کبوتر بیچنے کی شدید ممانعت کی تھی۔اسمیں اُسنے سور کی قربانی کرائی۔شاید روحی بت پرست سیخ کے فرشتے تھے۔اس آیت سے یہ بات آشکار ہے کہ اجسام انسانی میں جناب پھر پھر حلول کر کر آتے ہیں۔سبحان اللہ بھیس بدل بدل خفیہ خفیہ کارسازیاں کرتے ہیں۔دکھانے کے۔۔۔۔اور کھانے کے اور۔جس حالت میں مسیح کا اجسام میں حلول کر آنا اور دوسے انسانوں کے جسم میں آکر عاصیوں اور باغیوں کو انتقام لینا انجیلی مذاق پر سلم ہوں۔تو کہنے والا اس عقیدے کی بنا پر کہ سکتا ہے کہ عرب میں اسی منتقم نے جو پہلے زمانوں میں لوگوں کو وباؤں نقطوں اور جنگوں سی پلاک کرتا رہا۔اور خاکساری بے بسی کی حالت میں یہودیوں کی منتیں کرتا رہا کہ مجھے مانو۔اور کبھی دھمکاتا کہ دیکھو مجھے مانو ورنہ فرشتوں کے لشکروں کے ساتھ اگر تمہیں تباہ کر دونگا۔ہاں اُسی منتقم نے عبد اللہ اور آمنہ کے گھر میں جنم لیا۔اور بت پرستوں اور الہی باغیوں سے واجبی انتقام لیا۔ہم نہیں سمجھے کہ عقلمند پادری صاحبان اس بات کو کیونکر رد کر سکتے ہیں ،