فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 111 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 111

کا مسکو کوئی ڈرنے لگا تھا۔عیسائیوں کو آجا کے بڑا فخر اس بات پر ہوتا ہو کہ مسیح کمال بردباری اور حمل کی تعلیم دیتا ہے کہ جو کوئی تجھے ایک گال پر تپانچہ ان سے دوسرا گال بھی پھیر دے۔اور اگر ایک کریں بیگار میں پکڑ کر لیجائے۔تو دوکوس چلا جا۔اگر کوئی تیرا کیڑا پکڑے تو اسے دیدے؟ میں کہتا ہوں۔نہیں بلکہ عقل سلیم اور فطرت تقسیم کہتی ہے کہ کبھی ایک لمحہ بھر کے لیے یہ خیالی احکام تعمیل ہوئے۔یا کبھی کسی نے کوشش کی۔ایسی گوش خوش کن باتوں پر نازاں ہونا دانشمندی نہیں۔بودھ اور آرین اور چینیوں کے اصول اس سے بی این دلیل اور خیالی رم می بینی ہی کہ کیسی ایک ذی روح کو ستانا منذ مبارہ جائز نہیں سمجھتے۔مگر ایسی گھڑ توں سے کیا فائدہ۔اور ان بے مغز متوں پر فخر کے کیا معنے کوئی نہیں جواب ہے سکتا کہ ان احکام کی بھی عمل ہوا۔یا عادۃ اللہ انپر عمل کرنیکی مختلف القویٰ او میبائن الاوضاع انسان کو اجازت دے سکتی ہے۔متقدمین نصاری کا ذکر جانے دو۔جن پر اول اول روح القدس نے جلوہ کیا۔اور جنکی رفتار بنی نوع کے ساتھ ہم مقدمے میں ذکر کر آتے ہیں۔آجکل کی مہذب ترقی یافتہ یورپ کی سلطنتوں کو دیکھ لو۔کیا اُنکے قوانین ملی کا مدار اسی پر ہے۔اس ادعائے ترقی کے زمانے میں شب و روز جهان کش آلات جنگ کے ایجاد و اختراع میں لگا رہنا ہر وقت لڑائی کے داتو ی پیچ بچارتے رہنا اور پھر ہم مذہب کمیشن پر کمیشن بھی جگہ بڑے بڑے خداع اور خیال سو ممالک غیر کر میں ریشہ دوانی کرنا۔ایک کو دنیا۔ایک کو لالچ۔ایک سر قطع۔ایک سے وصل۔صاحبو! یہ احکام سیمی کی تعمیل ہے۔پادری صاحبان با صاف دل لوگوں کو بہت جلد دھوکا دینے پر آمادہ ہوتے ہیں۔کہ فلاں افریقہ کے بادشاہ نے ملکہ معظمہ قیصرہ ہند سے پوچھا کہ آپکی ترقی سلطنت کی کیا وجہ ہے۔ملکہ محمد وحد نے اُسکے جواب میں انجیل بھیجدی یا الہ اللہ سوچو عقل کو کام فرما کہ دھو کے بازیوں