فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 108
۱۰۸ یادر ہے یہ اس قوم کا سخت دھوکا ہی۔توریت اعلان کر رہی ہو کہ موسی میرا برگزیده رسول میرا اکلوتا۔میری مرضی پر چلنے والا ہے۔ابتک بنی اسرائیل میں کوئی نبی نہیں اُٹھا۔الا جس سے خداوند آمنے سامنے آشنائی کرتا۔استثنا ۳۴ باب ۱۰۔حضرت داؤد کی نسبت جسے بڑھکر سفا کی شاید اور کسی سے کمتر ہوئی ہوگی لکھا ہے۔داؤد نے میرے سارے حکموں کو حفظ کیا۔اور اپنے سارے دل سے میری پیروی کی۔تاکہ فقط وہی کرے جو میری نگاہ میں اچھا تھا۔(اسلاطین ۱۲ باب م) داؤد نے خداوند کی نگاہ میں نیکو کاری کی۔(اسلاطین ۱۵ باب (۵) اور میری شریعتوں اور حکموں پر اپنے باپ داؤد کیطرح چلتا۔(اسلاطین ا باب ۳۳) یشوع بن نون روح قدس دانائی کی روح سے معمور تھا۔(استثنا ۳۴ باب ۹) یہ تمام مدح و ثنا و توریت ان نبیوں کی نسبت کرتی ہو۔کیا رائیگان ہو۔نہیں نہیں وہ بالکل خداوند خدا کی مرضی پر چلے اور اسی کے حکم سے سب کام کیئے۔پس ان سب برگزیدوں کا فعل اصل نفس جہاد کی اباحت اور استحسان کی کافی دلیل ہے۔رہی یہ بات کہ اُنہوں نے دین کی خاطر نہیں کیا۔تو پھر کیا دنیا کی خاطر کیا۔یا بیہودہ اور لغو کام کیا۔اور اگر ان قوموں کے معاصی کی سزا ہے۔تو صاف معلوم ہوا دین کی خاطر جنگ کی۔اگر وہ خدائی قوم بنی اسرائیل کی طرح ٹھیک موسی یا تو ریت کے مطبع ہوتے۔تو کاہے کو ایسی خطرناک سزائیں پاتے۔ہم بڑے زور اور رات سے بھی کرتے ہیں کہ نبی عربی مسلم نے بھی کسی کو دعوی اگر ایا مسلمان کرنے کیلئے تلوار نہیں اُٹھائی۔اور جب اُٹھائی تو صرف خود حفاظتی اور دفاع میں اُٹھائی۔اور پھر اس میں بھی کمال رحم و رافت کو مرعی رکھا۔سخت سے سخت ے بھی امت دشمن سے بھی کبھی توریت والا معاملہ نہیں کیا۔اور یہی بات ہم انشاء اللہ غزوات محمدیہ میں دکھا دینگے :