فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 107
1-6 لوگوں کو آروں اور کلہاڑوں اور لوہے کی داونی گاڑیوں کے نیچے کیا اور اینٹوں کے سجلتے پزا وے میں جلا دیا۔ا تاریخ ۲۰ باب ۲ دیکھو۔-146 -۲- سلاطین ۱۰ باب - یا ہے نے اخیر اب کے سارے گھرانے کو بالکل نابود کیا۔۲۔سلاطین ۱۵ باب ۱۶۔مناحم نے تمام عاطر عورتوں کے پیٹ پھاڑ ڈالے۔۲- سلاطین ۲۳ باب ۱۶- قبروں سے ہڈیاں نکلوا کے الہی حکم سے جلو ائیں۔ہم نے عہد عتیق سے مختصراً انبیائے بنی اسرائیل کے آتش افشاں جہاد نقل کر کے رکھ دیتے ہیں۔ہم دعوی کرتے ہیں کہ یہ غضب پر ستم یہ مکانوں کو ڈھانا شہروں کو آگ لگا دینا۔باغوں اور ہرے درختوں کو جلانا قتل عام کرنا سروں میں مین گاڑنا۔آروں، کلہاڑوں سے پروانا۔پزادوں میں حلوانا - حاملہ عورتوں کے پیٹ پھاڑنا۔اسپر بھی قوت عصبی کا فرو نہ ہونا۔تو قبر سے ہڈیاں نکلوا کر جبلوا کر ہی ٹھنڈا کرنا۔ہائے ستم یہ افعال ہرگز ہرگز اسلام اور رحیم بانی اسلام سے سرزد نہیں ہوئے۔کون شخص اس حکم کو شنکر کانپ نہیں اُٹھا " تو ان سے عہد مت باندھیو" " ان پر رحم نہ کریو بخلاف اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور اُنکے جانشینان برحق جب کسی طرف کو لشکر روانہ کرنے لگتے اول نصیحت سردار لشکر کو یہ ہوتی۔ملک مفتوح کی عورتوں۔بچوں بوڑھوں۔خانقاہوں۔عبادت گاہوں خانقا نشینوں سے تعرض مت کرنا۔کھیتوں کو مت جلانا۔پھلدار درختوں کو مت کاٹنا۔انصاف سے سوچنا چاہیئے۔اس سے بڑھ کر کیا رحم ہوسکتا ہے۔انبیائے بنی اسرائیل جیسے حضرت داؤد یشوع و موسی وغیرہ کے سخت جھادوں کی نسبت جب کوئی معترض اعتراض کرتا ہوں۔عیسائی لوگ بیا کی سو فورا پکار اٹھتے ہیں کہ انہوں نے خطا کی وہ معصوم انسان نہ تھے۔اوریہ کہ انہوں نے دین کے واسطے جنگ نہیں کی۔