فرموداتِ مصلح موعود — Page 370
ذبیحہ اہل کتاب سور کی چربی آیت میں جولَحْمُ الْخِنْزِیرِ فرمایا اس کے متعلق فقہاء میں اختلاف ہے کہ تم میں چربی بھی شامل ہے یا نہیں۔جہاں تک لغت کا سوال ہے تم یعنی چربی کو لخم سے الگ خیال کیا جاتا ہے لیکن مفسرین کہتے ہیں کہ تم کے نام میں شھم بھی شامل ہے۔گومفسرین کی دلیل ذوقی ہے اور لغت والوں کی بات اس مسئلہ میں زیادہ قابل اعتبار ہے۔مگر اس کے باوجود میرے نزدیک سؤر کی شھم یعنی چر بی جائز نہیں اور اس کی دلیل میرے پاس یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مردہ جانور کی چربی حرام ہے اور سور کی حرمت اور مردہ کی حرمت ایک ہی آیت میں اور ایک ہی الفاظ میں بیان کی گئی ہے۔پس دونوں کا حکم ایک قسم کا سمجھا جائے گا۔لیکن سؤر کی جلد کا استعمال جائز ہوگا کیونکہ وہ کھائی نہیں جاتی۔احادیث میں ایک اور واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ حضرت ام سلمی رضی اللہ عنہا کی ایک بکری مرگئی۔چند آدمی اس کو اٹھا کر باہر لئے جارہے تھے۔نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا کہ تم اس کا چمڑا کیوں نہیں اتار لیتے ؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ تو مینہ ہے۔آپ نے فرمایا کیا تم نے اسے کھانا ہے۔پس معلوم ہوا کہ جس کا گوشت حرام ہو اس کے چمڑے کے استعمال میں کوئی حرج نہیں۔ہاں سور کے بالوں کے بنے ہوئے بُرشوں کو مکر وہ کہا جائے گا کیونکہ ان کو منہ میں ڈالا جاتا ہے جو کھانے کا دروازہ ہے۔( تفسیر کبیر جلد چہارم۔سورہ انحل - صفحه ۲۶۰) عورت کا ذبیحه سوال :۔کیا مرد کی غیر موجودگی میں عورت کا ذبیحہ جائز ہے؟ جواب :۔بہر حالت جائز ہے۔ناجائز ہونے کی کوئی وجہ نہیں البتہ بعض ملانوں کو ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ منع کرتے ہیں۔الفضل ۷ / مارچ ۱۹۱۶ء۔جلد ۳۔نمبر ۹۵ صفحه ۹)