فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 369 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 369

۳۶۹ ذبیحہ اہل کتاب سوال :۔کیا میں اپنے بھائی کے ساتھ جس نے مسیح موعود کی بیعت نہیں کی خوردونوش اور بودو باش سے تعلق رکھوں؟ جواب:۔ان کے ساتھ کھانے پینے میں کوئی حرج نہیں اس قدر اختلاط وتعلق نہ ہو جس سے دینی نقصان کا اندیشہ ہو۔الفضل ۲۵ مارچ ۱۹۱۵ ء - جلد ۲ نمبر ۱۱۸ صفه ۲ ) ھندوؤں اور عیسائیوں کے گھر کا کھانا کھانا چھوت چھات کے متعلق فرمایا کہ یہ مسئلہ تو ہے ہی غلط جو شخص بھی غلیظ ہوگا اس سے پر ہیز کیا جائے گا اور اگر چوہڑا صاف ستھرا ہو یا اپنے سامنے اس کے ہاتھ دھلوا لئے جائیں ( کیونکہ وہ اہل کتاب تو نہیں آخر غلاظت میں کام کرتا ہے۔تو کھانے پینے کی چیز کو اس کے ہاتھ بھی لگوائے جاسکتے ہیں اور اگر حرام چیز کسی اہل کتاب کے ہاتھ کو لگی ہوئی ہے مثلاً شراب یا سور کا گوشت تو اس کے ہاتھ لگنے سے بھی کھانے کی چیز نا پاک ہو جائے گی۔الفضل ۳۱ جولائی ۱۹۲۲ء۔جلد ۱۰ نمبر 9 صفحہ ۷ ) سوال :۔ایک صاحب نے عرض کیا کہ کیا چوہڑے کے ہاتھ کا کھانا جائز ہے اگر وہ صاف ستھرا ہو اور کوئی غلاظت یا مکروہ چیز اس کے جسم اور لباس پر نہ ہو؟ جواب :۔فرمایا۔صاف آدمی کے ہاتھ سے چیز کھانا جائز ہے البتہ غیر اہل کتاب کے ہاتھ کی پکی ہوئی کھانی منع ہے۔سوال ہوا کہ ہندو اور سکھ کے ہاتھ کی پکی ہوئی کھانا جائز ہے؟ جواب :۔ہند واہل کتاب ہیں اور سکھ بھی کیونکہ وہ مسلمانوں ہی کا بگڑا ہوا فرقہ ہیں۔سوال ہوا کہ سکھ جھٹکا کرتے ہیں؟ فرمایا:۔وہ ناجائز ہے۔اہل کتاب کے ساتھ کھانے کے یہ معنی نہیں کہ جو چیزیں شریعت اسلام میں ناجائز ہیں وہ بھی ان کے ساتھ کھانے سے جائز ہو جاتی ہیں۔الفضل ۷ار جولائی ۱۹۲۳ء۔جلد ۱۰۔نمبر ۵ صفحه ۵)